نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے یار جس حال ہے وہ ہے وہ رکھے وہی حال اچھا ہے دل بیتاب کو پہلو ہے وہ ہے وہ مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی حقیقت سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن ہے وہ ہے وہ خدا خیر کرے حقیقت ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہ کہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے نئی جنس ہے مال اچھا ہے چشم و دل جس کے ہوں مشتاق حقیقت صورت اچھی جس کی تعریف ہوں گھر گھر حقیقت جمال اچھا ہے یار تک روز اسیر ہے برائی میری رشک ہوتا ہے کہ مجھ سے میرا حال اچھا ہے اپنی آنکھیں نظر آتی ہیں جو اچھی ان کو جانتے ہیں مری بیمار کا حال اچھا ہے باتوں باتوں ہے وہ ہے وہ لگا لائے حسینوں کو جلیل جاناں کو بھی سحر بیانی ہے وہ ہے وہ کمال اچھا ہے
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Jaleel Manikpuri
بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی تمہارے لیے زندگانی لٹا دی صبا نے تو بر سائے گل فصل گل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھٹا نے مے ارغوانی لٹا دی اداؤں پہ کر دی فدا ساری ہستی نگا ہوں پہ دنیا فانی لٹا دی غضب دولت حسن پائی تھی دل نے لگ معنی مری اک لگ معنی لٹا دی لگ کھونا تھا غفلت ہے وہ ہے وہ عہد جوانی غضب رات تھی یہ سہانی لٹا دی لگ کی حسن کی دودمان اے ماہ کامل فقط رات بھر ہے وہ ہے وہ جوانی لٹا دی حسینوں نے رنگینی خواب شیریں سنی جب ہماری کہانی لٹا دی غضب حوصلہ ہم نے غنچہ کا دیکھا تبسم پہ ساری جوانی لٹا دی جلیل آپ کی شاعری پر کسی نے نگا ہوں کی جادو بیانی لٹا دی
Jaleel Manikpuri
0 likes
عک سے ہے آئی لگ دہر ہے وہ ہے وہ صورت مری کچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت مری دیکھتا ہے وہ ہے وہ اسے کیونکر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہوں گئی حیرت مری روز حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں گلے ملنے کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت مری سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بے حد ہوتا ہے چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت مری آئینے سے ا نہیں کچھ ان سے نہیں بات یہ ہے چاہتے ہیں کوئی دیکھا کرے صورت مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوں کوئی معشوق مری ہاتھ آیا مری آب ہے وہ ہے وہ جو آ جائے طبیعت مری بو گیسو نے شگوفہ یہ نیا چھوڑا ہے نکہت گل سے الجھتی ہے طبیعت مری ان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے دور سے ا سے کو دکھا دیتے ہیں تربت مری جاتے جاتے حقیقت یہی کر گئے تاکید جلیل دل ہے وہ ہے وہ رکھیےگا حفاظت سے محبت مری
Jaleel Manikpuri
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaleel Manikpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaleel Manikpuri's ghazal.







