ghazalKuch Alfaaz

عک سے ہے آئی لگ دہر ہے وہ ہے وہ صورت مری کچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت مری دیکھتا ہے وہ ہے وہ اسے کیونکر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہوں گئی حیرت مری روز حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں گلے ملنے کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت مری سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بے حد ہوتا ہے چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت مری آئینے سے ا نہیں کچھ ان سے نہیں بات یہ ہے چاہتے ہیں کوئی دیکھا کرے صورت مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوں کوئی معشوق مری ہاتھ آیا مری آب ہے وہ ہے وہ جو آ جائے طبیعت مری بو گیسو نے شگوفہ یہ نیا چھوڑا ہے نکہت گل سے الجھتی ہے طبیعت مری ان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے دور سے ا سے کو دکھا دیتے ہیں تربت مری جاتے جاتے حقیقت یہی کر گئے تاکید جلیل دل ہے وہ ہے وہ رکھیےگا حفاظت سے محبت مری

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Jaleel Manikpuri

بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی تمہارے لیے زندگانی لٹا دی صبا نے تو بر سائے گل فصل گل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھٹا نے مے ارغوانی لٹا دی اداؤں پہ کر دی فدا ساری ہستی نگا ہوں پہ دنیا فانی لٹا دی غضب دولت حسن پائی تھی دل نے لگ معنی مری اک لگ معنی لٹا دی لگ کھونا تھا غفلت ہے وہ ہے وہ عہد جوانی غضب رات تھی یہ سہانی لٹا دی لگ کی حسن کی دودمان اے ماہ کامل فقط رات بھر ہے وہ ہے وہ جوانی لٹا دی حسینوں نے رنگینی خواب شیریں سنی جب ہماری کہانی لٹا دی غضب حوصلہ ہم نے غنچہ کا دیکھا تبسم پہ ساری جوانی لٹا دی جلیل آپ کی شاعری پر کسی نے نگا ہوں کی جادو بیانی لٹا دی

Jaleel Manikpuri

0 likes

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے یار جس حال ہے وہ ہے وہ رکھے وہی حال اچھا ہے دل بیتاب کو پہلو ہے وہ ہے وہ مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی حقیقت سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن ہے وہ ہے وہ خدا خیر کرے حقیقت ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہ کہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے نئی جنس ہے مال اچھا ہے چشم و دل جس کے ہوں مشتاق حقیقت صورت اچھی جس کی تعریف ہوں گھر گھر حقیقت جمال اچھا ہے یار تک روز اسیر ہے برائی میری رشک ہوتا ہے کہ مجھ سے میرا حال اچھا ہے اپنی آنکھیں نظر آتی ہیں جو اچھی ان کو جانتے ہیں مری بیمار کا حال اچھا ہے باتوں باتوں ہے وہ ہے وہ لگا لائے حسینوں کو جلیل جاناں کو بھی سحر بیانی ہے وہ ہے وہ کمال اچھا ہے

Jaleel Manikpuri

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaleel Manikpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaleel Manikpuri's ghazal.