ghazalKuch Alfaaz

بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی تمہارے لیے زندگانی لٹا دی صبا نے تو بر سائے گل فصل گل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھٹا نے مے ارغوانی لٹا دی اداؤں پہ کر دی فدا ساری ہستی نگا ہوں پہ دنیا فانی لٹا دی غضب دولت حسن پائی تھی دل نے لگ معنی مری اک لگ معنی لٹا دی لگ کھونا تھا غفلت ہے وہ ہے وہ عہد جوانی غضب رات تھی یہ سہانی لٹا دی لگ کی حسن کی دودمان اے ماہ کامل فقط رات بھر ہے وہ ہے وہ جوانی لٹا دی حسینوں نے رنگینی خواب شیریں سنی جب ہماری کہانی لٹا دی غضب حوصلہ ہم نے غنچہ کا دیکھا تبسم پہ ساری جوانی لٹا دی جلیل آپ کی شاعری پر کسی نے نگا ہوں کی جادو بیانی لٹا دی

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Jaleel Manikpuri

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے یار جس حال ہے وہ ہے وہ رکھے وہی حال اچھا ہے دل بیتاب کو پہلو ہے وہ ہے وہ مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی حقیقت سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن ہے وہ ہے وہ خدا خیر کرے حقیقت ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہ کہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے نئی جنس ہے مال اچھا ہے چشم و دل جس کے ہوں مشتاق حقیقت صورت اچھی جس کی تعریف ہوں گھر گھر حقیقت جمال اچھا ہے یار تک روز اسیر ہے برائی میری رشک ہوتا ہے کہ مجھ سے میرا حال اچھا ہے اپنی آنکھیں نظر آتی ہیں جو اچھی ان کو جانتے ہیں مری بیمار کا حال اچھا ہے باتوں باتوں ہے وہ ہے وہ لگا لائے حسینوں کو جلیل جاناں کو بھی سحر بیانی ہے وہ ہے وہ کمال اچھا ہے

Jaleel Manikpuri

6 likes

عک سے ہے آئی لگ دہر ہے وہ ہے وہ صورت مری کچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت مری دیکھتا ہے وہ ہے وہ اسے کیونکر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہوں گئی حیرت مری روز حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں گلے ملنے کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت مری سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بے حد ہوتا ہے چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت مری آئینے سے ا نہیں کچھ ان سے نہیں بات یہ ہے چاہتے ہیں کوئی دیکھا کرے صورت مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوں کوئی معشوق مری ہاتھ آیا مری آب ہے وہ ہے وہ جو آ جائے طبیعت مری بو گیسو نے شگوفہ یہ نیا چھوڑا ہے نکہت گل سے الجھتی ہے طبیعت مری ان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے دور سے ا سے کو دکھا دیتے ہیں تربت مری جاتے جاتے حقیقت یہی کر گئے تاکید جلیل دل ہے وہ ہے وہ رکھیےگا حفاظت سے محبت مری

Jaleel Manikpuri

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaleel Manikpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaleel Manikpuri's ghazal.