ghazalKuch Alfaaz

नहीं उड़ाऊँगा ख़ाक रोया नहीं करूँँगा करूँँगा मैं इश्क़ पर तमाशा नहीं करूँँगा मिरी मोहब्बत भी ख़ास है क्यूँँकि ख़ास हूँ मैं सो आम लोगों में ज़िक्र इस का नहीं करूँँगा उसे बताओ फ़रार का नाम तो नहीं इश्क़ जो कह रहा है मैं कार-ए-दुनिया नहीं करूँँगा कभी न सोचा था गुफ़्तुगू भी करूँँगा घंटों और अपनी बातों में ज़िक्र तेरा नहीं करूँँगा इरादतन जो किया है अब तक ग़लत किया है सो अब कोई काम बिल-इरादा नहीं करूँँगा तुझे मैं अपना नहीं समझता इसी लिए तो ज़माने तुझ से मैं कोई शिकवा नहीं करूँँगा मिरी तवज्जोह फ़क़त मिरे काम पर रहेगी मैं ख़ुद को साबित करूँँगा दावा नहीं करूँँगा अगर मैं हारा तो मान लूँगा शिकस्त अपनी तिरी तरह से कोई बहाना नहीं करूँँगा अगर किसी मस्लहत में पीछे हटा हूँ 'तैमूर' तो मत समझना कि अब मैं हमला नहीं करूँँगा

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Taimur Hasan

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی ابھی تو رنگ جمع تھا کہ رات بیت گئی مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیے ابھی یہ مجدہ نوید سنا تھا کہ رات بیت گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات آب و زیست کا قصہ سنہانے بیٹھ گیا تو ابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی ی ہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا ہے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رات بیت گئی یہ کیا طلسم یہ پل بھر ہے وہ ہے وہ رات آ بھی گئی ابھی تو ہے وہ ہے وہ نے سنا تھا کہ رات بیت گئی شب آج کی حقیقت مری نام کرنے والا ہے یہ انکشاف ہوا تھا کہ رات بیت گئی نوید صبح جو سب کو سناتا پھرتا تھا حقیقت مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ رات بیت گئی اٹھے تھے ہاتھ دعا کے لیے کہ رات کٹے دعا ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا تھا کہ رات بیت گئی خوشی ضرور تھی تیمور دن نکلنے کی م گر یہ غم بھی سوا تھا کہ رات بیت گئی

Taimur Hasan

0 likes

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتی میں اصل بات سے سخت جاں اگر کرتا میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا میرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر مری خلاف زمانے کو بول کر کرتا اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح میں انہسار بزرگوں کے سائے پر کرتا سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے یہ آرزو تھی مری ساتھ تو سفر کرتا گئے دنوں میں یہ معمول تھا میرا تیمور زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

Taimur Hasan

0 likes

حقیقت جو ممکن نہ ہوں ممکن یہ بنا دیتا ہے خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے زندگی بھر کی ریاضت مری بے کار گئی اک خیال آیا تھا بدلے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا دیتا ہے اب مجھے لگتا ہے دشمن میرا اپنا چہرہ مجھ سے پہلے یہ میرا حال بتا دیتا ہے چند جملے حقیقت ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمور جلتا سگریٹ حقیقت ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے یہ جہاں ای سے لیے اچھا نہیں لگتا تیمور جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلہ دیتا ہے

Taimur Hasan

0 likes

اندھیرا نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں دریا تری وجود کا حصہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ اور ا سے ہے وہ ہے وہ صرف مقدر کا فرق ہے ور لگ حقیقت بے وجہ جتنا ہے اتنا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں ا سے کی تو سوچ دنیا ہے وہ ہے وہ ج سے کا کوئی نہیں تو ک سے لیے ادا سے ہے تیرا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھ کے آیا ہے یہ خیال ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں لگ ا سے سے کہ دوں کہ تجھ سا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

Taimur Hasan

0 likes

तुझे ज़िंदगी का शऊर था तेरा क्या बना तू ख़मोश क्यूँँ है मुझे बता तेरा क्या बना नई मंज़िलों की तलाश थी सो बिछड़ गए मैं बिछड़ के तुझ से भटक गया तेरा क्या बना मुझे इल्म था कि शिकस्त मेरा नसीब है तू उमीदवार था जीत का तेरा क्या बना मैं मुक़ाबले में शरीक था फ़क़त इस लिए कोई आ के मुझ से ये पूछता तेरा क्या बना जो नसीब से तेरी जंग थी वो मेरी भी थी मैं तो कामयाब न हो सका तेरा क्या बना तुझे देख कर तो मुझे लगा था कि ख़ुश है तू तेरे बोलने से पता चला तेरा क्या बना

Taimur Hasan

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Taimur Hasan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Taimur Hasan's ghazal.