ghazalKuch Alfaaz

اندھیرا نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں دریا تری وجود کا حصہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ اور ا سے ہے وہ ہے وہ صرف مقدر کا فرق ہے ور لگ حقیقت بے وجہ جتنا ہے اتنا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں ا سے کی تو سوچ دنیا ہے وہ ہے وہ ج سے کا کوئی نہیں تو ک سے لیے ادا سے ہے تیرا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھ کے آیا ہے یہ خیال ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں لگ ا سے سے کہ دوں کہ تجھ سا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Taimur Hasan

حقیقت جو ممکن نہ ہوں ممکن یہ بنا دیتا ہے خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے زندگی بھر کی ریاضت مری بے کار گئی اک خیال آیا تھا بدلے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا دیتا ہے اب مجھے لگتا ہے دشمن میرا اپنا چہرہ مجھ سے پہلے یہ میرا حال بتا دیتا ہے چند جملے حقیقت ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمور جلتا سگریٹ حقیقت ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے یہ جہاں ای سے لیے اچھا نہیں لگتا تیمور جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلہ دیتا ہے

Taimur Hasan

0 likes

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی ابھی تو رنگ جمع تھا کہ رات بیت گئی مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیے ابھی یہ مجدہ نوید سنا تھا کہ رات بیت گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات آب و زیست کا قصہ سنہانے بیٹھ گیا تو ابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی ی ہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا ہے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رات بیت گئی یہ کیا طلسم یہ پل بھر ہے وہ ہے وہ رات آ بھی گئی ابھی تو ہے وہ ہے وہ نے سنا تھا کہ رات بیت گئی شب آج کی حقیقت مری نام کرنے والا ہے یہ انکشاف ہوا تھا کہ رات بیت گئی نوید صبح جو سب کو سناتا پھرتا تھا حقیقت مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ رات بیت گئی اٹھے تھے ہاتھ دعا کے لیے کہ رات کٹے دعا ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا تھا کہ رات بیت گئی خوشی ضرور تھی تیمور دن نکلنے کی م گر یہ غم بھی سوا تھا کہ رات بیت گئی

Taimur Hasan

0 likes

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتی میں اصل بات سے سخت جاں اگر کرتا میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا میرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر مری خلاف زمانے کو بول کر کرتا اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح میں انہسار بزرگوں کے سائے پر کرتا سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے یہ آرزو تھی مری ساتھ تو سفر کرتا گئے دنوں میں یہ معمول تھا میرا تیمور زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

Taimur Hasan

0 likes

नहीं उड़ाऊँगा ख़ाक रोया नहीं करूँँगा करूँँगा मैं इश्क़ पर तमाशा नहीं करूँँगा मिरी मोहब्बत भी ख़ास है क्यूँँकि ख़ास हूँ मैं सो आम लोगों में ज़िक्र इस का नहीं करूँँगा उसे बताओ फ़रार का नाम तो नहीं इश्क़ जो कह रहा है मैं कार-ए-दुनिया नहीं करूँँगा कभी न सोचा था गुफ़्तुगू भी करूँँगा घंटों और अपनी बातों में ज़िक्र तेरा नहीं करूँँगा इरादतन जो किया है अब तक ग़लत किया है सो अब कोई काम बिल-इरादा नहीं करूँँगा तुझे मैं अपना नहीं समझता इसी लिए तो ज़माने तुझ से मैं कोई शिकवा नहीं करूँँगा मिरी तवज्जोह फ़क़त मिरे काम पर रहेगी मैं ख़ुद को साबित करूँँगा दावा नहीं करूँँगा अगर मैं हारा तो मान लूँगा शिकस्त अपनी तिरी तरह से कोई बहाना नहीं करूँँगा अगर किसी मस्लहत में पीछे हटा हूँ 'तैमूर' तो मत समझना कि अब मैं हमला नहीं करूँँगा

Taimur Hasan

0 likes

तुझे ज़िंदगी का शऊर था तेरा क्या बना तू ख़मोश क्यूँँ है मुझे बता तेरा क्या बना नई मंज़िलों की तलाश थी सो बिछड़ गए मैं बिछड़ के तुझ से भटक गया तेरा क्या बना मुझे इल्म था कि शिकस्त मेरा नसीब है तू उमीदवार था जीत का तेरा क्या बना मैं मुक़ाबले में शरीक था फ़क़त इस लिए कोई आ के मुझ से ये पूछता तेरा क्या बना जो नसीब से तेरी जंग थी वो मेरी भी थी मैं तो कामयाब न हो सका तेरा क्या बना तुझे देख कर तो मुझे लगा था कि ख़ुश है तू तेरे बोलने से पता चला तेरा क्या बना

Taimur Hasan

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Taimur Hasan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Taimur Hasan's ghazal.