ghazalKuch Alfaaz

حقیقت جو ممکن نہ ہوں ممکن یہ بنا دیتا ہے خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے زندگی بھر کی ریاضت مری بے کار گئی اک خیال آیا تھا بدلے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا دیتا ہے اب مجھے لگتا ہے دشمن میرا اپنا چہرہ مجھ سے پہلے یہ میرا حال بتا دیتا ہے چند جملے حقیقت ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمور جلتا سگریٹ حقیقت ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے یہ جہاں ای سے لیے اچھا نہیں لگتا تیمور جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلہ دیتا ہے

Related Ghazal

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ

Umair Najmi

55 likes

بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے

Himanshi babra KATIB

45 likes

ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے

Ali Zaryoun

64 likes

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا

Bashir Badr

43 likes

More from Taimur Hasan

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتی میں اصل بات سے سخت جاں اگر کرتا میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا میرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر مری خلاف زمانے کو بول کر کرتا اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح میں انہسار بزرگوں کے سائے پر کرتا سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے یہ آرزو تھی مری ساتھ تو سفر کرتا گئے دنوں میں یہ معمول تھا میرا تیمور زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

Taimur Hasan

0 likes

नहीं उड़ाऊँगा ख़ाक रोया नहीं करूँँगा करूँँगा मैं इश्क़ पर तमाशा नहीं करूँँगा मिरी मोहब्बत भी ख़ास है क्यूँँकि ख़ास हूँ मैं सो आम लोगों में ज़िक्र इस का नहीं करूँँगा उसे बताओ फ़रार का नाम तो नहीं इश्क़ जो कह रहा है मैं कार-ए-दुनिया नहीं करूँँगा कभी न सोचा था गुफ़्तुगू भी करूँँगा घंटों और अपनी बातों में ज़िक्र तेरा नहीं करूँँगा इरादतन जो किया है अब तक ग़लत किया है सो अब कोई काम बिल-इरादा नहीं करूँँगा तुझे मैं अपना नहीं समझता इसी लिए तो ज़माने तुझ से मैं कोई शिकवा नहीं करूँँगा मिरी तवज्जोह फ़क़त मिरे काम पर रहेगी मैं ख़ुद को साबित करूँँगा दावा नहीं करूँँगा अगर मैं हारा तो मान लूँगा शिकस्त अपनी तिरी तरह से कोई बहाना नहीं करूँँगा अगर किसी मस्लहत में पीछे हटा हूँ 'तैमूर' तो मत समझना कि अब मैं हमला नहीं करूँँगा

Taimur Hasan

0 likes

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی ابھی تو رنگ جمع تھا کہ رات بیت گئی مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیے ابھی یہ مجدہ نوید سنا تھا کہ رات بیت گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات آب و زیست کا قصہ سنہانے بیٹھ گیا تو ابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی ی ہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا ہے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رات بیت گئی یہ کیا طلسم یہ پل بھر ہے وہ ہے وہ رات آ بھی گئی ابھی تو ہے وہ ہے وہ نے سنا تھا کہ رات بیت گئی شب آج کی حقیقت مری نام کرنے والا ہے یہ انکشاف ہوا تھا کہ رات بیت گئی نوید صبح جو سب کو سناتا پھرتا تھا حقیقت مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ رات بیت گئی اٹھے تھے ہاتھ دعا کے لیے کہ رات کٹے دعا ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا تھا کہ رات بیت گئی خوشی ضرور تھی تیمور دن نکلنے کی م گر یہ غم بھی سوا تھا کہ رات بیت گئی

Taimur Hasan

0 likes

हम दुनिया से जब तंग आया करते हैं अपने साथ इक शाम मनाया करते हैं सूरज के उस जानिब बसने वाले लोग अक्सर हम को पास बुलाया करते हैं यूँँही ख़ुद से रूठा करते हैं पहले देर तलक फिर ख़ुद को मनाया करते हैं चुप रहते हैं उस के सामने जा कर हम यूँँ उस को चख याद दिलाया करते हैं नींदों के वीरान जज़ीरे पर हर शब ख़्वाबों का इक शहर बसाया करते हैं इन ख़्वाबों की क़ीमत हम से पूछ कि हम इन के सहारे उम्र बिताया करते हैं अब तो कोई भी दूर नहीं तो फिर 'तैमूर' हम ख़त किस के नाम लिखाया करते हैं

Taimur Hasan

0 likes

तुझे ज़िंदगी का शऊर था तेरा क्या बना तू ख़मोश क्यूँँ है मुझे बता तेरा क्या बना नई मंज़िलों की तलाश थी सो बिछड़ गए मैं बिछड़ के तुझ से भटक गया तेरा क्या बना मुझे इल्म था कि शिकस्त मेरा नसीब है तू उमीदवार था जीत का तेरा क्या बना मैं मुक़ाबले में शरीक था फ़क़त इस लिए कोई आ के मुझ से ये पूछता तेरा क्या बना जो नसीब से तेरी जंग थी वो मेरी भी थी मैं तो कामयाब न हो सका तेरा क्या बना तुझे देख कर तो मुझे लगा था कि ख़ुश है तू तेरे बोलने से पता चला तेरा क्या बना

Taimur Hasan

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Taimur Hasan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Taimur Hasan's ghazal.