نظر نظر ہے وہ ہے وہ ادا جمال رکھتے تھے ہم ایک بے وجہ کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے لگ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل ہے وہ ہے وہ ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر ہے وہ ہے وہ رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے ب سے اشتیاق تکلم ہے وہ ہے وہ بارہا ہم لوگ جواب دل ہے وہ ہے وہ زبان پر سوال رکھتے تھے اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رہ کے حقیقت سورج کی چال رکھتے تھے جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے حقیقت جو یہ سارے غصہ رکھتے تھے چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے غلطیاں نہیں جو کھلے پھول راہ سرسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جرم ہے کہ حقیقت فکر مآل رکھتے تھے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
اکیلا دن ہے کوئی اور لگ تنہا رات ہوتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے تری آواز کو ا سے شہر کی لہریں مشین ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوں تمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے کہی چڑیاں چہکتی ہیں کہی مصروف چٹکتی ہیں م گر مری مکان سے آ سماں تک رات ہوتی ہے کسے آباد سمجھوں ک سے کا شہر آشوب لکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
بغیر ا سے کے اب آرام بھی نہیں آتا حقیقت بے وجہ ج سے کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند ہے وہ ہے وہ نظر آئی حقیقت ماہ رکھ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے ا سے کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب حقیقت آنکھوں کو رہن رکھتا ہے اور ا سے کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا
Ghulam Mohammad Qasir
4 likes
بن ہے وہ ہے وہ ویراں تھی نظر شہر ہے وہ ہے وہ دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رتجگے کاشت لگ کر لے تو حقیقت کب سوتا ہے ج سے کو ا سے توڑے ہے وہ ہے وہ ہونا ہے برابر کا شریک مری احسا سے ہے وہ ہے وہ تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھروں شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تری بخشی ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہوں مری گاہے سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پ سے دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
1 likes
پہلے اک بے وجہ مری ذات بنا اور پھروں پوری کائنات بنا حسن نے خود کہا مصور سے پاؤں پر مری کوئی ہاتھ بنا پیا سے کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا غم کا سورج حقیقت دے گیا تو تجھ کو چاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اک مشغلہ تھا سینکڑوں کا اب یہی مقصد حیات بنا
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے کہاں تک ہے وہ ہے وہ دیکھوں یہ منظر اکیلے گلی ہے وہ ہے وہ ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں گھروں ہے وہ ہے وہ مگر سب سنوبر اکیلے نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے اب اک تیر بھی ہوں لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے جو دیکھو تو اک لہر ہے وہ ہے وہ جا رہے ہیں جو سوچو تو سارے شناور اکیلے تری یاد کی برف باری کا موسم سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر گزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے زمانے سے سینکڑوں خفا تو نہیں ہیں کہ دیکھے گئے ہیں حقیقت 9 اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's ghazal.







