ghazalKuch Alfaaz

بن ہے وہ ہے وہ ویراں تھی نظر شہر ہے وہ ہے وہ دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رتجگے کاشت لگ کر لے تو حقیقت کب سوتا ہے ج سے کو ا سے توڑے ہے وہ ہے وہ ہونا ہے برابر کا شریک مری احسا سے ہے وہ ہے وہ تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھروں شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تری بخشی ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہوں مری گاہے سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پ سے دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Ghulam Mohammad Qasir

اکیلا دن ہے کوئی اور لگ تنہا رات ہوتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے تری آواز کو ا سے شہر کی لہریں مشین ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوں تمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے کہی چڑیاں چہکتی ہیں کہی مصروف چٹکتی ہیں م گر مری مکان سے آ سماں تک رات ہوتی ہے کسے آباد سمجھوں ک سے کا شہر آشوب لکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے

Ghulam Mohammad Qasir

2 likes

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے کہاں تک ہے وہ ہے وہ دیکھوں یہ منظر اکیلے گلی ہے وہ ہے وہ ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں گھروں ہے وہ ہے وہ مگر سب سنوبر اکیلے نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے اب اک تیر بھی ہوں لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے جو دیکھو تو اک لہر ہے وہ ہے وہ جا رہے ہیں جو سوچو تو سارے شناور اکیلے تری یاد کی برف باری کا موسم سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر گزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے زمانے سے سینکڑوں خفا تو نہیں ہیں کہ دیکھے گئے ہیں حقیقت 9 اکیلے

Ghulam Mohammad Qasir

2 likes

پہلے اک بے وجہ مری ذات بنا اور پھروں پوری کائنات بنا حسن نے خود کہا مصور سے پاؤں پر مری کوئی ہاتھ بنا پیا سے کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا غم کا سورج حقیقت دے گیا تو تجھ کو چاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اک مشغلہ تھا سینکڑوں کا اب یہی مقصد حیات بنا

Ghulam Mohammad Qasir

2 likes

کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا تصویر نہیں جستجو دل شکستہ شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بیکار گیا تو بن ہے وہ ہے وہ سونا میرا صدیوں کا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا

Ghulam Mohammad Qasir

10 likes

نظر نظر ہے وہ ہے وہ ادا جمال رکھتے تھے ہم ایک بے وجہ کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے لگ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل ہے وہ ہے وہ ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر ہے وہ ہے وہ رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے ب سے اشتیاق تکلم ہے وہ ہے وہ بارہا ہم لوگ جواب دل ہے وہ ہے وہ زبان پر سوال رکھتے تھے اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رہ کے حقیقت سورج کی چال رکھتے تھے جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے حقیقت جو یہ سارے غصہ رکھتے تھے چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے غلطیاں نہیں جو کھلے پھول راہ سرسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جرم ہے کہ حقیقت فکر مآل رکھتے تھے

Ghulam Mohammad Qasir

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's ghazal.