ghazalKuch Alfaaz

اکیلا دن ہے کوئی اور لگ تنہا رات ہوتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے تری آواز کو ا سے شہر کی لہریں مشین ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوں تمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے کہی چڑیاں چہکتی ہیں کہی مصروف چٹکتی ہیں م گر مری مکان سے آ سماں تک رات ہوتی ہے کسے آباد سمجھوں ک سے کا شہر آشوب لکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Ghulam Mohammad Qasir

بن ہے وہ ہے وہ ویراں تھی نظر شہر ہے وہ ہے وہ دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رتجگے کاشت لگ کر لے تو حقیقت کب سوتا ہے ج سے کو ا سے توڑے ہے وہ ہے وہ ہونا ہے برابر کا شریک مری احسا سے ہے وہ ہے وہ تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھروں شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تری بخشی ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہوں مری گاہے سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پ سے دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

Ghulam Mohammad Qasir

1 likes

پہلے اک بے وجہ مری ذات بنا اور پھروں پوری کائنات بنا حسن نے خود کہا مصور سے پاؤں پر مری کوئی ہاتھ بنا پیا سے کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا غم کا سورج حقیقت دے گیا تو تجھ کو چاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اک مشغلہ تھا سینکڑوں کا اب یہی مقصد حیات بنا

Ghulam Mohammad Qasir

2 likes

نظر نظر ہے وہ ہے وہ ادا جمال رکھتے تھے ہم ایک بے وجہ کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے لگ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل ہے وہ ہے وہ ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر ہے وہ ہے وہ رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے ب سے اشتیاق تکلم ہے وہ ہے وہ بارہا ہم لوگ جواب دل ہے وہ ہے وہ زبان پر سوال رکھتے تھے اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رہ کے حقیقت سورج کی چال رکھتے تھے جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے حقیقت جو یہ سارے غصہ رکھتے تھے چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے غلطیاں نہیں جو کھلے پھول راہ سرسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جرم ہے کہ حقیقت فکر مآل رکھتے تھے

Ghulam Mohammad Qasir

0 likes

کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا تصویر نہیں جستجو دل شکستہ شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بیکار گیا تو بن ہے وہ ہے وہ سونا میرا صدیوں کا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا

Ghulam Mohammad Qasir

10 likes

بغیر ا سے کے اب آرام بھی نہیں آتا حقیقت بے وجہ ج سے کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند ہے وہ ہے وہ نظر آئی حقیقت ماہ رکھ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے ا سے کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب حقیقت آنکھوں کو رہن رکھتا ہے اور ا سے کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا

Ghulam Mohammad Qasir

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's ghazal.