کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا تصویر نہیں جستجو دل شکستہ شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بیکار گیا تو بن ہے وہ ہے وہ سونا میرا صدیوں کا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
بن ہے وہ ہے وہ ویراں تھی نظر شہر ہے وہ ہے وہ دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رتجگے کاشت لگ کر لے تو حقیقت کب سوتا ہے ج سے کو ا سے توڑے ہے وہ ہے وہ ہونا ہے برابر کا شریک مری احسا سے ہے وہ ہے وہ تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھروں شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تری بخشی ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہوں مری گاہے سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پ سے دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
1 likes
نظر نظر ہے وہ ہے وہ ادا جمال رکھتے تھے ہم ایک بے وجہ کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے لگ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل ہے وہ ہے وہ ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر ہے وہ ہے وہ رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے ب سے اشتیاق تکلم ہے وہ ہے وہ بارہا ہم لوگ جواب دل ہے وہ ہے وہ زبان پر سوال رکھتے تھے اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رہ کے حقیقت سورج کی چال رکھتے تھے جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے حقیقت جو یہ سارے غصہ رکھتے تھے چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے غلطیاں نہیں جو کھلے پھول راہ سرسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جرم ہے کہ حقیقت فکر مآل رکھتے تھے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
پہلے اک بے وجہ مری ذات بنا اور پھروں پوری کائنات بنا حسن نے خود کہا مصور سے پاؤں پر مری کوئی ہاتھ بنا پیا سے کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا غم کا سورج حقیقت دے گیا تو تجھ کو چاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اک مشغلہ تھا سینکڑوں کا اب یہی مقصد حیات بنا
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
اکیلا دن ہے کوئی اور لگ تنہا رات ہوتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے تری آواز کو ا سے شہر کی لہریں مشین ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوں تمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے کہی چڑیاں چہکتی ہیں کہی مصروف چٹکتی ہیں م گر مری مکان سے آ سماں تک رات ہوتی ہے کسے آباد سمجھوں ک سے کا شہر آشوب لکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
بغیر ا سے کے اب آرام بھی نہیں آتا حقیقت بے وجہ ج سے کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند ہے وہ ہے وہ نظر آئی حقیقت ماہ رکھ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے ا سے کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب حقیقت آنکھوں کو رہن رکھتا ہے اور ا سے کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا
Ghulam Mohammad Qasir
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's ghazal.







