ghazalKuch Alfaaz

निकल के हल्क़ा-ए-शाम-ओ-सहरस जाएँ कहीं ज़मीं के साथ न मिल जाएँ ये ख़लाएँ कहीं सफ़र की रात है पिछली कहानियाँ न कहो रुतों के साथ पलटती हैं कब हवाएँ कहीं फ़ज़ा में तैरते रहते हैं नक़्श से क्या क्या मुझे तलाश न करती हों ये बलाएँ कहीं हवा है तेज़ चराग़-ए-वफ़ा का ज़िक्र तो क्या तनाबें ख़ेमा-ए-जाँ की न टूट जाएँ कहीं मैं ओस बन के गुल-ए-हर्फ़ पर चमकता हूँ निकलने वाला है सूरज मुझे छुपाएँ कहीं मिरे वजूद पे उतरी हैं लफ़्ज़ की सूरत भटक रही थीं ख़लाओं में ये सदाएँ कहीं हवा का लम्स है पाँव में बेड़ियों की तरह शफ़क़ की आँच से आँखें पिघल न जाएँ कहीं रुका हुआ है सितारों का कारवाँ 'अमजद' चराग़ अपने लहू से ही अब जलाएँ कहीं

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Amjad Islam Amjad

پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے

Amjad Islam Amjad

0 likes

आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है

Amjad Islam Amjad

0 likes

بھیڑ ہے وہ ہے وہ اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر حقیقت کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن ا سے کا ایک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے ہے وہ ہے وہ چینی ملانا ا سے گھڑی بھایا بے حد زیر لب حقیقت مسکراتا شکریہ اچھا لگا دل ہے وہ ہے وہ کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے حقیقت ملا تو سب وسیم توڑنا اچھا لگا بے ارادہ لم سے کی حقیقت سنسی پیاری لگی کم برق آنکھ کا حقیقت دیکھنا اچھا لگا نیم شب کی خموشی ہے وہ ہے وہ بھیگتی سڑکوں پہ کل تیری یادوں کے جلؤ ہے وہ ہے وہ گھومنا اچھا لگا ا سے عدو جاں کو امجد ہے وہ ہے وہ برا کیسے ک ہوں جب بھی آیا سامنے حقیقت بےوفا اچھا لگا

Amjad Islam Amjad

4 likes

किसी की आँख में ख़ुद को तलाश करना है फिर उस के ब'अद हमें आइनों से डरना है फ़लक की बंद गली के फ़क़ीर हैं तारे! कि घूम फिर के यहीं से उन्हें गुज़रना है जो ज़िंदगी थी मिरी जान! तेरे साथ गई बस अब तो उम्र के नक़्शे में वक़्त भरना है जो तुम चलो तो अभी दो क़दम में कट जाए जो फ़ासला मुझे सदियों में पार करना है तो क्यूँँ न आज यहीं पर क़याम हो जाए कि शब क़रीब है आख़िर कहीं ठहरना है वो मेरा सैल-ए-तलब हो कि तेरी रा'नाई चढ़ा है जो भी समुंदर उसे उतरना है सहर हुई तो सितारों ने मूँद लीं आँखें वो क्या करें कि जिन्हें इंतिज़ार करना है ये ख़्वाब है कि हक़ीक़त ख़बर नहीं 'अमजद' मगर है जीना यहीं पर यहीं पे मरना है

Amjad Islam Amjad

0 likes

آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے کھڑکی سے مہتاب گزرنے والا ہے صدیوں کے ان خواب گزیدہ شہروں سے مہر عالم تاب گزرنے والا ہے فرمائش کی قید ہے وہ ہے وہ تھے جب شہزادے قصے کا حقیقت باب گزرنے والا ہے سناٹے کی دہشت بڑھتی جاتی ہے بستی سے سیلاب گزرنے والا ہے دریاؤں ہے وہ ہے وہ ریت اڑےگی صحرا کی صحرا سے گرداب گزرنے والا ہے مولا جانے کب سر و ساماں آنکھوں سے جو موسم شاداب گزرنے والا ہے ہستی امجد دیوانے کا خواب صحیح اب تو یہ بھی خواب گزرنے والا ہے

Amjad Islam Amjad

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.