ghazalKuch Alfaaz

nirala 'ajab nak-chadha aadmi huun jo tuk ki kaho be-tuka aadmi huun bade aadmi to bade chain se hain musibat miri main khara aadmi huun sabhi masha-allah subhan-allah ho la-haul mujh par main kya aadmi huun ye bachna bidakna chhatakna mujhi se miri jaan main to tira aadmi huun agar sach hai sachchai hoti hai 'uryan main 'uryan barahna khula aadmi huun tatolo parakh lo chalo aazma lo khuda ki qasam ba-khuda aadmi huun bharam ka bharam laaj ki laaj rakh lo tha sab ko yahi vasvasa aadmi huun nirala 'ajab nak-chadha aadmi hun jo tuk ki kaho be-tuka aadmi hun bade aadmi to bade chain se hain musibat meri main khara aadmi hun sabhi masha-allah subhan-allah ho la-haul mujh par main kya aadmi hun ye bachna bidakna chhatakna mujhi se meri jaan main to tera aadmi hun agar sach hai sachchai hoti hai 'uryan main 'uryan barahna khula aadmi hun tatolo parakh lo chalo aazma lo khuda ki qasam ba-khuda aadmi hun bharam ka bharam laj ki laj rakh lo tha sab ko yahi waswasa aadmi hun

Related Ghazal

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

21 likes

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوں جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہوں جائے کبھی تو آ سماں سے چاند اترے جام ہوں جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہوں جائے غضب حالات تھے یوں دل کا سودا ہوں گیا تو آخر محبت کی حویلی ج سے طرح نیلام ہوں جائے سمندر کے سفر ہے وہ ہے وہ ا سے طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں ہے وہ ہے وہ شام ہوں جائے مجھے معلوم ہے ا سے کا ہری پھروں ک ہاں ہوگا پرندہ آ سماں چھونے ہے وہ ہے وہ جب ناکام ہوں جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو لگ جانے ک سے گلی ہے وہ ہے وہ زندگی کی شام ہوں جائے

Bashir Badr

22 likes

زما لگ ا سے لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست ہمارا سمے ذرا پیچھے چل رہا دوست ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا رہا ہوں تیری رخصتی پہ ا گر تو مجھ ہے وہ ہے وہ کون ہے جو ہاتھ مل رہا ہے دوست لگ مل سکی مری حصے کی روشنی بھی مجھے میرا چراغ کہی اور جل رہا ہے دوست پلید کر کے ہمارے وجود کی مٹی ہمارے نام کا سورج نکل رہا ہے دوست بتائیں کیا تجھے اب خستہ حالی دل راز شکستہ خواب کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے دوست

Ismail Raaz

15 likes

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے

Vikram Gaur Vairagi

14 likes

جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے

Umair Najmi

46 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shamim Abbas.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shamim Abbas's ghazal.