ghazalKuch Alfaaz

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا کاٹے ہیں خاک قسمیں کر جو باد سبک گرد باد برسوں گلیوں ہے وہ ہے وہ ہم ہوئے ہیں اس کا بن خراب کیا کیا کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش اس کا کا کے خیال ہے وہ ہے وہ ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا انواع جرم میرے پھروں بے شمار و بے حد روز حساب لیںگے مجھ سے حساب کیا کیا اک آگ لگ رہی ہے سینوں ہے وہ ہے وہ کچھ نہ پوچھو جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس کا بن کباب کیا کیا افرات شوق ہے وہ ہے وہ تو رویت رہی نہ مطلق کہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا پھروں پھروں گیا تو ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے گزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا آشفتہ اس کا کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پر تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی ہے وہ ہے وہ میر جی کو کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Meer Taqi Meer

0 likes

ک سے حسن سے ک ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی خوش اختری کی ا سے ماہ رو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا لگ تھا قدم یاں جوں بعد بے تامل سیر ا سے ج ہاں کی رہرو پر تو نے بچھڑنا کی شبہ بحال سگ ہے وہ ہے وہ اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پائے گل ا سے چمن ہے وہ ہے وہ چھوڑا گیا تو لگ ہم سے سر پر ہمارے اب کے بد دعا ہے ب پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا ا سے کا ہمارا لیکن مجنوں کے تالوں نے شہرت ہے وہ ہے وہ یاوری کی گریے سے حرف زن تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھروں خا لگ وحدت پسند کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں م گر اب رکھیے بنا تازہ ا سے چرخ چنبری کی خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے ہم رنجا خاطروں کی کیا خوب دل بری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ ہے وہ ہے وہ ہیں ان خاک ہے وہ ہے وہ ملوں کی کاہے کو ہمسری کی

Meer Taqi Meer

0 likes

کب تلک یہ ستم اٹھائیےگا ایک دن یوںہی جی سے جائیےگا شکل تصویر بے خو گرا کب تک کسو دن آپ ہے وہ ہے وہ بھی آئیے گا سب سے مل چل کہ حادثے سے پھروں کہی ڈھونڈا بھی تو لگ پائیےگا لگ صید نا توان ہم اسیری ہے وہ ہے وہ تو نسیم گلزار ناز کوئی دن اور باو کھائیےگا کہیےگا ا سے سے قصہ مجنوں زبان پردے ہے وہ ہے وہ غم سنائیےگا ا سے کے پا بو سے کی توقع پر اپنے تیں خاک ہے وہ ہے وہ ملائیےگا ا سے کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا خوب سے ہاتھ اسے لگائیےگا شرکت شیخ و برہمن سے میر جلوہ رعنائی سے بھی جائیےگا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ج گرا مسجد کسی ویرانے ہے وہ ہے وہ بنائیےگا

Meer Taqi Meer

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.