पल में जहाँ को देखते मेरे डुबो चुका इक वक़्त में ये दीदा भी तूफ़ान रो चुका अफ़्सोस मेरे मुर्दे पर इतना न कर कि अब पछताना यूँँ ही सा है जो होना था हो चुका लगती नहीं पलक से पलक इंतिज़ार में आँखें अगर यही हैं तो भर नींद सो चुका यक चश्मक-ए-प्याला है साक़ी बहार-ए-उम्र झपकी लगी कि दूर ये आख़िर ही हो चुका मुमकिन नहीं कि गुल करे वैसी शगुफ़्तगी उस सर ज़मीं में तुख़्म-ए-मोहब्बत मैं बो चुका पाया न दिल बहाएा हुआ सैल-ए-अश्क का मैं पंजा-ए-मिज़ा से समुंदर बिलो चुका हर सुब्ह हादसे से ये कहता है आसमाँ दे जाम-ए-ख़ून 'मीर' को गर मुँह वो धो चुका
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Meer Taqi Meer
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی
Meer Taqi Meer
0 likes
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا
Meer Taqi Meer
0 likes
یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں
Meer Taqi Meer
0 likes
कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से पर्दा उठा तो लड़ियाँ आँखें हमारी हम से सूरत-गर-ए-अजल का क्या हाथ था कहे तो खींची वो तेग़-ए-अबरू फ़ौलाद के क़लम से सोज़िश गई न दिल की रोने से रोज़-ओ-शब के जलता हूँ और दरिया बहते हैं चश्म-ए-नम से ताअ'त का वक़्त गुज़रा मस्ती में आब रज़ की अब चश्म-दाश्त उस के याँ है फ़क़त करम से कुढि़ए न रोइए तो औक़ात क्यूँँके गुज़रे रहता है मश्ग़ला सा बार-ए-ग़म-ओ-अलम से मशहूर है समाजत मेरी कि तेग़ बरसी पर मैं न सर उठाया हरगिज़ तिरे क़दम से बात एहतियात से कर ज़ाएअ'' न कर नफ़स को बालीदगी-ए-दिल है मानिंद-ए-शीशा दम से क्या क्या तअब उठाए क्या क्या अज़ाब देखे तब दिल हुआ है उतना ख़ूगर तिरे सितम से हस्ती में हम ने आ कर आसूदगी न देखी खुलतीं न काश आँखें ख़्वाब ख़ुश अदम से पामाल कर के हम को पछताओगे बहुत तुम कमयाब हैं जहाँ में सर देने वाले हम से दिल दो हो 'मीर' साहब उस बद-मआ'श को तुम ख़ातिर तो जम्अ'' कर लो टक क़ौल से क़सम से
Meer Taqi Meer
0 likes
ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया उस ख़ानुमाँ-ख़राब ने आँखों में घर किया रंग उड़ चला चमन में गुलों का तो क्या नसीम हम को तो रोज़गार ने बे-बाल-ओ-पर किया नाफ़े जो थीं मिज़ाज को अव्वल सो इश्क़ में आख़िर उन्हीं दवाओं ने हम को ज़रर किया मरता हूँ जान दें हैं वतन-दारीयों पे लोग और सुनते जाते हैं कि हर इक ने सफ़र किया क्या जानूँ बज़्म-ए-ऐश कि साक़ी की चश्म देख मैं सोहबत-ए-शराब से आगे सफ़र किया जिस दम कि तेग़-ए-इश्क़ खिंची बुल-हवस कहाँ सुन लीजियो कि हम ही ने सीना-सिपर किया दिल ज़ख़्मी हो के तुझ तईं पहुँचा तो कम नहीं इस नीम-कुश्ता ने भी क़यामत जिगर किया है कौन आप में जो मिले तुझ से मस्त नाज़ ज़ौक़-ए-ख़बर ही ने तो हमें बे-ख़बर क्या वो दश्त-ए-ख़ौफ़-नाक रहा है मिरा वतन सुन कर जिसे ख़िज़्र ने सफ़र से हज़र किया कुछ कम नहीं हैं शोबदा-बाज़ों से मय-गुसार दारू पिला के शैख़ को आदम से ख़र किया हैं चारों तरफ़ खे़ में खड़े गर्द-बाद के क्या जानिए जुनूँ ने इरादा किधर किया लुक्नत तिरी ज़बान की है सहर जिस से शोख़ यक हर्फ़-ए-नीम-गुफ़्ता ने दिल पर असर किया बे-शर्म महज़ है वो गुनहगार जिन ने 'मीर' अब्र-ए-करम के सामने दामाँ तर किया
Meer Taqi Meer
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meer Taqi Meer.
Similar Moods
More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.







