پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی جی لگ سکیں اور مرتے جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی دونوں اپنی آن کے سچے دونوں عقل کے اندھے ہاتھ بڑھائیں پھروں ہٹ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی خواب ہے وہ ہے وہ چنو جان چھڑا کر بھاگ لگ سکنے والے بھاگیں اور وہیں رہ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی صندل فولے جنگل جاگے ناگ پھریں متوالے ننگے پاؤں چلیں گھبرائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
مجھ کو دروازے پر ہی روک لیا جاتا ہے مری آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے جاناں ا گر جانے لگے ہوں تو پلٹ کر مت دیکھو موت لکھکر تو توڑ دیا جاتا ہے تجھ کو بتلاتا م گر شرم بے حد آتی ہے تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
More from Mahboob Khizan
ناز و انداز دل دکھانے لگے اب حقیقت فتنے سمجھ ہے وہ ہے وہ آنے لگے پھروں وہی انتظار کی زنجیر رات آئی دیے جلانے لگے چھاؤں پڑھنے لگیں لگی ستاروں کی روح کے زخم جھلمیلانے لگے حال احوال کیا بتائیں کسے سب وسیم گئے ٹھکانے لگے منزل صبح آ گئی شاید راستے ہر طرف کو جانے لگے
Mahboob Khizan
0 likes
سنبھالنے سے طبیعت ک ہاں سنبھلتی ہے حقیقت بے کسی ہے کہ دنیا رگوں ہے وہ ہے وہ چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات تری خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے حقیقت چال ہوں کہ بدن ہوں کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں ک سے طرح بتائیں تمہیں کہ سان سے چلتی ہے لیکن ادا سے چلتی ہے تمہارے شہر کا انصاف ہے غضب انصاف ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے بکھر گئے مجھے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھالنے والے ی ہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے اڑائے ہے حاصل ہنگامہ بہار اڑائے بہار مسکین ہے کائنات پھلتی ہے
Mahboob Khizan
0 likes
محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا خلوص ناز کی توہین بھی دیکھی نہیں جاتی شعور حسن کو منجملہ و اسباب ماتم بھی کرتے نہیں بنتا تجھے اب کیا کہی اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا ستم دیکھو کہ ا سے بے درد سے اپنی لڑائی ہے جسے شرمندہ پیکار بھی کرتے نہیں بنتا ادا رنجیدگی پروانگی آنسو بھری آنکھیں اب اتنی سادگی کیا پیار بھی کرتے نہیں بنتا جوانی مہربانی حسن بھی اچھی مصیبت ہے اسے اچھا اسے بیمار بھی کرتے نہیں بنتا بھنور سے جی بھی افسا لگ ہستی ہے لیکن کیا کیا جائے طواف موج کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے یہی دل ج سے کو دنیا دار بھی کرتے نہیں بنتا جلاتی ہے دلوں کو سرد مہری بھی زمانے کی سوال گرمی بازار بھی کرتے نہیں بنتا اڑائے ان کی برق ایسی ناممکن نہیں لیکن ذرا سی بات پر اصرار بھی کرتے نہیں بنتا
Mahboob Khizan
0 likes
حال ایسا نہیں کہ جاناں سے کہی ایک جھگڑا نہیں کہ جاناں سے کہی زیر لب آہ بھی محال ہوئی درد اتنا نہیں کہ جاناں سے کہی جاناں زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مسیحا نہیں کہ جاناں سے کہی سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ جاناں سے کہی ک سے سے پوچھیں کہ وصل ہے وہ ہے وہ کیا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کیا نہیں کہ جاناں سے کہی اب اڑائے یہ بھی کہ نہیں سکتے جاناں نے پوچھا نہیں کہ جاناں سے کہی
Mahboob Khizan
0 likes
सबब तलाश न कर बस यूँँही है ये दुनिया वही बहुत है जो कुछ जानती है ये दुनिया खुलत में बंद हैं कोंपल के सोते जागते रंग परत परत में नई दिलकशी है ये दुनिया उलझते रहने में कुछ भी नहीं थकन के सिवा बहुत हक़ीर हैं हम तुम बड़ी है ये दुनिया ये लोग साँस भी लेते हैं ज़िंदा भी हैं मगर हर आन जैसे इन्हें रोकती है ये दुनिया बहुत दिनों तो ये शर्मिंदगी थी शामिल-ए-हाल हमीं ख़राब हैं अच्छी भली है ये दुनिया हरे-भरे रहें तेरे चमन तिरे गुलज़ार हरा है ज़ख़्म-ए-तमन्ना भरी है ये दुनिया तुम अपनी लहर में हो और किसी भँवर की तरह मैं दूसरा हूँ कोई तीसरी है ये दुनिया वो अपने साथ भी रहते हैं चुप भी रहते हैं जिन्हें ख़बर है कि क्या बेचती है ये दुनिया 'ख़िज़ाँ' न सोच कि बिकती है क्यूँँ बदन की बहार समझ कि रूह की सौदा-गरी है ये दुनिया
Mahboob Khizan
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mahboob Khizan.
Similar Moods
More moods that pair well with Mahboob Khizan's ghazal.







