ghazalKuch Alfaaz

حال ایسا نہیں کہ جاناں سے کہی ایک جھگڑا نہیں کہ جاناں سے کہی زیر لب آہ بھی محال ہوئی درد اتنا نہیں کہ جاناں سے کہی جاناں زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مسیحا نہیں کہ جاناں سے کہی سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ جاناں سے کہی ک سے سے پوچھیں کہ وصل ہے وہ ہے وہ کیا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کیا نہیں کہ جاناں سے کہی اب اڑائے یہ بھی کہ نہیں سکتے جاناں نے پوچھا نہیں کہ جاناں سے کہی

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Mahboob Khizan

پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی جی لگ سکیں اور مرتے جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی دونوں اپنی آن کے سچے دونوں عقل کے اندھے ہاتھ بڑھائیں پھروں ہٹ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی خواب ہے وہ ہے وہ چنو جان چھڑا کر بھاگ لگ سکنے والے بھاگیں اور وہیں رہ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی صندل فولے جنگل جاگے ناگ پھریں متوالے ننگے پاؤں چلیں گھبرائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی

Mahboob Khizan

0 likes

سنبھالنے سے طبیعت ک ہاں سنبھلتی ہے حقیقت بے کسی ہے کہ دنیا رگوں ہے وہ ہے وہ چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات تری خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے حقیقت چال ہوں کہ بدن ہوں کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں ک سے طرح بتائیں تمہیں کہ سان سے چلتی ہے لیکن ادا سے چلتی ہے تمہارے شہر کا انصاف ہے غضب انصاف ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے بکھر گئے مجھے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھالنے والے ی ہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے اڑائے ہے حاصل ہنگامہ بہار اڑائے بہار مسکین ہے کائنات پھلتی ہے

Mahboob Khizan

0 likes

सबब तलाश न कर बस यूँँही है ये दुनिया वही बहुत है जो कुछ जानती है ये दुनिया खुलत में बंद हैं कोंपल के सोते जागते रंग परत परत में नई दिलकशी है ये दुनिया उलझते रहने में कुछ भी नहीं थकन के सिवा बहुत हक़ीर हैं हम तुम बड़ी है ये दुनिया ये लोग साँस भी लेते हैं ज़िंदा भी हैं मगर हर आन जैसे इन्हें रोकती है ये दुनिया बहुत दिनों तो ये शर्मिंदगी थी शामिल-ए-हाल हमीं ख़राब हैं अच्छी भली है ये दुनिया हरे-भरे रहें तेरे चमन तिरे गुलज़ार हरा है ज़ख़्म-ए-तमन्ना भरी है ये दुनिया तुम अपनी लहर में हो और किसी भँवर की तरह मैं दूसरा हूँ कोई तीसरी है ये दुनिया वो अपने साथ भी रहते हैं चुप भी रहते हैं जिन्हें ख़बर है कि क्या बेचती है ये दुनिया 'ख़िज़ाँ' न सोच कि बिकती है क्यूँँ बदन की बहार समझ कि रूह की सौदा-गरी है ये दुनिया

Mahboob Khizan

0 likes

یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو حسن اور نجات ہے وہ ہے وہ فصل مشرقین ہے کون چاہتا نہیں حسن کو نجات کو یہ سکون بے جہت یہ کشش عجیب ہے تجھ ہے وہ ہے وہ بند کر دیا ک سے نے شش جہات کو ساحل خیال پر کہکشاں کی چھوٹ تھی ایک موج لے گئی ان تجلیات کو آنکھ جب اٹھے بھر آئی شعر اب کہا لگ جائے کیسے بھول جائے حقیقت بھولنے کی بات کو دیکھ اے مری نگاہ تو بھی ہے ج ہاں بھی ہے ک سے نے با خبر کیا دوسرے کی ذات کو کیا اے مری نگاہ تو بھی ہے ج ہاں بھی ہے ک سے نے با خبر کہا دوسرے کی ذات کو کیا ہوئیں روایات اب ہیں کیوں شکایتیں عشق نامراد سے حسن بے ثبات کو اے بہار سر گراں تو خزاں نصیب ہے اور ہم تر سے گئے تری التفات کو

Mahboob Khizan

0 likes

ناز و انداز دل دکھانے لگے اب حقیقت فتنے سمجھ ہے وہ ہے وہ آنے لگے پھروں وہی انتظار کی زنجیر رات آئی دیے جلانے لگے چھاؤں پڑھنے لگیں لگی ستاروں کی روح کے زخم جھلمیلانے لگے حال احوال کیا بتائیں کسے سب وسیم گئے ٹھکانے لگے منزل صبح آ گئی شاید راستے ہر طرف کو جانے لگے

Mahboob Khizan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mahboob Khizan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mahboob Khizan's ghazal.