ghazalKuch Alfaaz

یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو حسن اور نجات ہے وہ ہے وہ فصل مشرقین ہے کون چاہتا نہیں حسن کو نجات کو یہ سکون بے جہت یہ کشش عجیب ہے تجھ ہے وہ ہے وہ بند کر دیا ک سے نے شش جہات کو ساحل خیال پر کہکشاں کی چھوٹ تھی ایک موج لے گئی ان تجلیات کو آنکھ جب اٹھے بھر آئی شعر اب کہا لگ جائے کیسے بھول جائے حقیقت بھولنے کی بات کو دیکھ اے مری نگاہ تو بھی ہے ج ہاں بھی ہے ک سے نے با خبر کیا دوسرے کی ذات کو کیا اے مری نگاہ تو بھی ہے ج ہاں بھی ہے ک سے نے با خبر کہا دوسرے کی ذات کو کیا ہوئیں روایات اب ہیں کیوں شکایتیں عشق نامراد سے حسن بے ثبات کو اے بہار سر گراں تو خزاں نصیب ہے اور ہم تر سے گئے تری التفات کو

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Mahboob Khizan

سنبھالنے سے طبیعت ک ہاں سنبھلتی ہے حقیقت بے کسی ہے کہ دنیا رگوں ہے وہ ہے وہ چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات تری خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے حقیقت چال ہوں کہ بدن ہوں کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں ک سے طرح بتائیں تمہیں کہ سان سے چلتی ہے لیکن ادا سے چلتی ہے تمہارے شہر کا انصاف ہے غضب انصاف ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے بکھر گئے مجھے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھالنے والے ی ہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے اڑائے ہے حاصل ہنگامہ بہار اڑائے بہار مسکین ہے کائنات پھلتی ہے

Mahboob Khizan

0 likes

محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا خلوص ناز کی توہین بھی دیکھی نہیں جاتی شعور حسن کو منجملہ و اسباب ماتم بھی کرتے نہیں بنتا تجھے اب کیا کہی اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا ستم دیکھو کہ ا سے بے درد سے اپنی لڑائی ہے جسے شرمندہ پیکار بھی کرتے نہیں بنتا ادا رنجیدگی پروانگی آنسو بھری آنکھیں اب اتنی سادگی کیا پیار بھی کرتے نہیں بنتا جوانی مہربانی حسن بھی اچھی مصیبت ہے اسے اچھا اسے بیمار بھی کرتے نہیں بنتا بھنور سے جی بھی افسا لگ ہستی ہے لیکن کیا کیا جائے طواف موج کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے یہی دل ج سے کو دنیا دار بھی کرتے نہیں بنتا جلاتی ہے دلوں کو سرد مہری بھی زمانے کی سوال گرمی بازار بھی کرتے نہیں بنتا اڑائے ان کی برق ایسی ناممکن نہیں لیکن ذرا سی بات پر اصرار بھی کرتے نہیں بنتا

Mahboob Khizan

0 likes

پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی جی لگ سکیں اور مرتے جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی دونوں اپنی آن کے سچے دونوں عقل کے اندھے ہاتھ بڑھائیں پھروں ہٹ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی خواب ہے وہ ہے وہ چنو جان چھڑا کر بھاگ لگ سکنے والے بھاگیں اور وہیں رہ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی صندل فولے جنگل جاگے ناگ پھریں متوالے ننگے پاؤں چلیں گھبرائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی

Mahboob Khizan

0 likes

ناز و انداز دل دکھانے لگے اب حقیقت فتنے سمجھ ہے وہ ہے وہ آنے لگے پھروں وہی انتظار کی زنجیر رات آئی دیے جلانے لگے چھاؤں پڑھنے لگیں لگی ستاروں کی روح کے زخم جھلمیلانے لگے حال احوال کیا بتائیں کسے سب وسیم گئے ٹھکانے لگے منزل صبح آ گئی شاید راستے ہر طرف کو جانے لگے

Mahboob Khizan

0 likes

حال ایسا نہیں کہ جاناں سے کہی ایک جھگڑا نہیں کہ جاناں سے کہی زیر لب آہ بھی محال ہوئی درد اتنا نہیں کہ جاناں سے کہی جاناں زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مسیحا نہیں کہ جاناں سے کہی سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ جاناں سے کہی ک سے سے پوچھیں کہ وصل ہے وہ ہے وہ کیا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کیا نہیں کہ جاناں سے کہی اب اڑائے یہ بھی کہ نہیں سکتے جاناں نے پوچھا نہیں کہ جاناں سے کہی

Mahboob Khizan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mahboob Khizan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mahboob Khizan's ghazal.