سنبھالنے سے طبیعت ک ہاں سنبھلتی ہے حقیقت بے کسی ہے کہ دنیا رگوں ہے وہ ہے وہ چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات تری خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے حقیقت چال ہوں کہ بدن ہوں کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں ک سے طرح بتائیں تمہیں کہ سان سے چلتی ہے لیکن ادا سے چلتی ہے تمہارے شہر کا انصاف ہے غضب انصاف ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے بکھر گئے مجھے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھالنے والے ی ہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے اڑائے ہے حاصل ہنگامہ بہار اڑائے بہار مسکین ہے کائنات پھلتی ہے
Related Ghazal
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
More from Mahboob Khizan
پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی جی لگ سکیں اور مرتے جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی دونوں اپنی آن کے سچے دونوں عقل کے اندھے ہاتھ بڑھائیں پھروں ہٹ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی خواب ہے وہ ہے وہ چنو جان چھڑا کر بھاگ لگ سکنے والے بھاگیں اور وہیں رہ جائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی صندل فولے جنگل جاگے ناگ پھریں متوالے ننگے پاؤں چلیں گھبرائیں ہم بھی پاگل جاناں بھی
Mahboob Khizan
0 likes
सबब तलाश न कर बस यूँँही है ये दुनिया वही बहुत है जो कुछ जानती है ये दुनिया खुलत में बंद हैं कोंपल के सोते जागते रंग परत परत में नई दिलकशी है ये दुनिया उलझते रहने में कुछ भी नहीं थकन के सिवा बहुत हक़ीर हैं हम तुम बड़ी है ये दुनिया ये लोग साँस भी लेते हैं ज़िंदा भी हैं मगर हर आन जैसे इन्हें रोकती है ये दुनिया बहुत दिनों तो ये शर्मिंदगी थी शामिल-ए-हाल हमीं ख़राब हैं अच्छी भली है ये दुनिया हरे-भरे रहें तेरे चमन तिरे गुलज़ार हरा है ज़ख़्म-ए-तमन्ना भरी है ये दुनिया तुम अपनी लहर में हो और किसी भँवर की तरह मैं दूसरा हूँ कोई तीसरी है ये दुनिया वो अपने साथ भी रहते हैं चुप भी रहते हैं जिन्हें ख़बर है कि क्या बेचती है ये दुनिया 'ख़िज़ाँ' न सोच कि बिकती है क्यूँँ बदन की बहार समझ कि रूह की सौदा-गरी है ये दुनिया
Mahboob Khizan
0 likes
محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا خلوص ناز کی توہین بھی دیکھی نہیں جاتی شعور حسن کو منجملہ و اسباب ماتم بھی کرتے نہیں بنتا تجھے اب کیا کہی اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا ستم دیکھو کہ ا سے بے درد سے اپنی لڑائی ہے جسے شرمندہ پیکار بھی کرتے نہیں بنتا ادا رنجیدگی پروانگی آنسو بھری آنکھیں اب اتنی سادگی کیا پیار بھی کرتے نہیں بنتا جوانی مہربانی حسن بھی اچھی مصیبت ہے اسے اچھا اسے بیمار بھی کرتے نہیں بنتا بھنور سے جی بھی افسا لگ ہستی ہے لیکن کیا کیا جائے طواف موج کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے یہی دل ج سے کو دنیا دار بھی کرتے نہیں بنتا جلاتی ہے دلوں کو سرد مہری بھی زمانے کی سوال گرمی بازار بھی کرتے نہیں بنتا اڑائے ان کی برق ایسی ناممکن نہیں لیکن ذرا سی بات پر اصرار بھی کرتے نہیں بنتا
Mahboob Khizan
0 likes
ناز و انداز دل دکھانے لگے اب حقیقت فتنے سمجھ ہے وہ ہے وہ آنے لگے پھروں وہی انتظار کی زنجیر رات آئی دیے جلانے لگے چھاؤں پڑھنے لگیں لگی ستاروں کی روح کے زخم جھلمیلانے لگے حال احوال کیا بتائیں کسے سب وسیم گئے ٹھکانے لگے منزل صبح آ گئی شاید راستے ہر طرف کو جانے لگے
Mahboob Khizan
0 likes
محبت پر لگ بھولو محبت بے کسی ہے سکون سرو و سنبل سب اپنی سادگی ہے ک ہاں حقیقت بے خو گرا تھی کہ خود ہم بے خبر تھے اب اتنی بےکلی ہے کہ دنیا جانتی ہے کہو مجھ سے کہ دل ہے وہ ہے وہ نہیں کوئی شکایت طبیعت منچلی ہے بہانے ڈھونڈتی ہے نمک سا گفتگو ہے وہ ہے وہ انوکھی مسکراہٹ بدن پر دھیرے دھیرے خوشگوار آ رہی ہے تجھے کیسے دکھاؤں یہ راتیں یہ اجالے جوانی سو گئی ہے محبت جاگتی ہے اسی کا شکوہ ہر دم اسی کا ذکر سب سے ا گر یہ دشمنی ہے تو اچھی دشمنی ہے تھکن ہے جان فزا سی برستی ہے اداسی ستارے تم تم کہ رہے ہیں کہ منزل آ گئی ہے پلٹ کر یوں لگ دیکھو امڈتے بادلوں سے بہار بے خزاں بھی سرکتی چاندنی ہے
Mahboob Khizan
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mahboob Khizan.
Similar Moods
More moods that pair well with Mahboob Khizan's ghazal.







