ghazalKuch Alfaaz

پھروں کچھ اک دل کو بے قراری ہے سینا جویا زخم کاری ہے پھروں ج گر خودنے لگا ناخن آمد فصل لالہ کاری ہے قبلہ مقصد نگاہ نیاز پھروں وہی پردہ عماری ہے چشم دلال جن سے رسوائی دل خریدار ذوق خواری ہے وہی صد رنگ نالہ فرسائی وہی سدگونا خوشی باری ہے دل ہوا خرام ناز سے پھروں محشرستان ستان بے قراری ہے جلوہ پھروں عرض ناز کرتا ہے روز بازار جاں سپاری ہے پھروں اسی بےوفا پہ مرتے ہیں پھروں وہی زندگی ہماری ہے پھروں کھلا ہے در عدالت ناز گرم بازار فوجداری ہے ہوں رہا ہے جہان ہے وہ ہے وہ اندھیر زلف کی پھروں سرشتہ داری ہے پھروں دیا پارہ ج گر نے سوال ایک پڑنا و آہ و زاری ہے پھروں ہوئے ہیں گواہ عشق طلب خوشی باری کا حکم جاری ہے دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا آج پھروں ا سے کی رو بکاری ہے بے خو گرا بے سبب نہیں تاکتے کچھ تو ہے ج سے کی پردہ داری ہے

Related Ghazal

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا

Tehzeeb Hafi

94 likes

ہاں یہ سچ ہے کہ محبت نہیں کی دوست ب سے مری طبیعت نہیں کی ا سے لیے گاؤں ہے وہ ہے وہ سیلاب آیا ہم نے دریاو کی عزت نہیں کی جسم تک ا سے نے مجھے سونپ دیا دل نے ا سے پر بھی کنایت نہیں کی مری اعزاز ہے وہ ہے وہ رکھی گئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے بزم ہے وہ ہے وہ شراکت نہیں کی یاد بھی یاد سے رکھا اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ بھی غفلت نہیں کی اس کا کا کو دیکھا تھا غضب حالت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں کبھی ا سے کی حفاظت نہیں کی ہم ا گر فتح ہوئے ہے تو کیا عشق نے ک سے پہ حکومت نہیں کی

Tehzeeb Hafi

74 likes

More from Mirza Ghalib

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

ہم رشک کو اپنے بھی بے شرط نہیں کرتے مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے یہ بائس نومیدی نہ ارباب نہ ہوس ہے تاکتے کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے

Mirza Ghalib

0 likes

کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالبیہ مو آئے یک مرتبہ نزدیک تر کے کہو کوئی کہ وہ آئے ہوں کش مکش نزع میں ہاں جذب محبت کچھ کہ نہ سکوں پر وہ مری پوچھنے کو آئے ہے سائقہ و شعلہ و سیماب کا عالم آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے ظاہر ہے کہ نزدیک تر کے نہ بھاگیں گے نکیرین ہاں منہ سے مگر بادہ دوشینہ کی وعدے آئے جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے ہاں اہل طلب کون سنے مہ و انجم دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالب ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

Mirza Ghalib

0 likes

کہتے ہوں لگ دیں گے ہم دل ا گر پڑا پایا دل ک ہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم آہ نبھے گی دیکھی نالہ نارساء پایا سادگی و پرکاری بے خو گرا و ہوشیاری حسن کو ت غافل ہے وہ ہے وہ جرأت آزما پایا غنچہ پھروں لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن ا سے دودمان زبان ہم نے بارہا ڈھونڈا جاناں نے بارہا پایا شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے جاناں نے کیا مزہ پایا ہے ک ہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کہ ایک بےکسی تجھ کو عالم آشنا پایا خاک بازی امید کارخا لگ طفلی یا سے کو دو عالم سے لب خندہ وا پایا کیوں لگ وحشت غالب باج خواہ تسکین ہوں کشتہ ت غافل کو خصم خون بہا پایا فکر نالہ ہے وہ ہے وہ گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب ہے وہ ہ

Mirza Ghalib

1 likes

پوچھوں قی سے اور کوئی لگ آیا بروئے کار صحرا م گر ب تنگی چشم حسود تھا آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا تھا خواب ہے وہ ہے وہ خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی لگ زیاں تھا لگ سود تھا لیتا ہوں مکتب غم دل ہے وہ ہے وہ سبق ہنوز لیکن یہی کہ چڑھانا گیا تو اور بود تھا ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ور لگ ہر لبا سے ہے وہ ہے وہ ننگ وجود تھا تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا عالم ج ہاں ب عرض بسات وجود تھا جوں صبح چاک جیب مجھے نور سواد لگ حجاب لگ قلب تھا بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا عالم طلسم شہر خموشی ہے سر بسر یا ہے وہ ہے وہ غریب کشور گفت و شنود تھا تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا میرا سفر ب طلا چشم حسود تھا تو یک ج ہاں قماش ہوں سے جمع کر کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا گردش محیط ظلم رہا ج سے دودمان فلک ہے وہ ہے وہ ہے وہ پامال غمزہ چشم کبود تھا پوچھا

Mirza Ghalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.