ghazalKuch Alfaaz

پھروں سے بدل کے مٹی کی صورت کروں مجھے عزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کروں مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تو جاناں سے کی ہی نہیں کوئی آرزو پانی نے کب کہا تھا کہ شربت کروں مجھے کچھ بھی ہوں مجھ کو ایک نئی شکل چاہیے دیوار پر ٹوٹو مجھے چھت کروں مجھے جنت پکارتی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہوں تری لیے دنیا ب زید ہے مجھ سے کہ جنت کروں مجھے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Munawwar Rana

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

یہ درویشوں کی بستی ہے ی ہاں ایسا نہیں ہوگا لبا سے زندگی پھٹ جائےگا میلا نہیں ہوگا شیئر بازار ہے وہ ہے وہ قیمت اچھلتی گرتی رہتی ہے م گر یہ خون مفل سے ہے کبھی مہنگا نہیں ہوگا تری احسا سے کی اینٹیں لگی ہیں ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارا گھر تری گھر سے کبھی اونچا نہیں ہوگا ہماری دوستی کے بیچ خود غرضی بھی شامل ہے یہ بے موسم کا پھل ہے یہ بے حد میٹھا نہیں ہوگا پرانی شہر کے لوگوں ہے وہ ہے وہ اک رسم مروت ہے ہمارے پا سے آ جاؤ کبھی دھوکہ نہیں ہوگا یہ ایسی چوٹ ہے ج سے کو ہمیشہ دکھتے رہنا ہے یہ ایسا زخم ہے جو عمر بھر اچھا نہیں ہوگا

Munawwar Rana

4 likes

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

حقیقت بچھڑ کر بھی ک ہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے ریت پر او سے سے اک نام لکھا ہوتا ہے خاک آنکھوں سے لگائی تو یہ احسا سے ہوا اپنی مٹی سے ہر اک بے وجہ جڑا ہوتا ہے ساری دنیا کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ کر ڈالا ہے کوئی منظر ہوں میرا دیکھا ہوا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلانا بھی نہیں چاہتا ا سے کو لیکن مستقل زخم کا رہنا بھی برا ہوتا ہے خوف ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہوئے شہر کی قسمت ہے یہی منتظر رہتا ہے ہر بے وجہ کہ کیا ہوتا ہے

Munawwar Rana

4 likes

خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہوں جانا م گر پھروں خود ب خود حقیقت آپ کا مطلع ہوں جانا کسی دن مری رسوائی کا یہ کارن لگ بن جائے تمہارا شہر سے جانا میرا بیمار ہوں جانا حقیقت اپنا جسم سارا سونپ دینا مری آنکھوں کو مری پڑھنے کی کوشش آپ کا ذائقہ ہوں جانا کبھی جب آندھیاں چلتی ہیں ہم کو یاد آتا ہے ہوا کا تیز چلنا آپ کا دیوار ہوں جانا بے حد دشوار ہے مری لیے ا سے کا تصور بھی بے حد آسان ہے ا سے کے لیے دشوار ہوں جانا کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے کہی چلنے کی ضد کرنا میرا تیار ہوں جانا کہانی کا یہ حصہ اب بھی کوئی خواب لگتا ہے ترا سر پر بٹھا لینا میرا دستار ہوں جانا محبت اک لگ اک دن یہ ہنر جاناں کو سکھا دےگی بغاوت پر اترنا اور خود مختار ہوں جانا نظر نیچی کیے ا سے کا گزرنا پا سے سے مری ذرا سی دیر رکنا پھروں صبا رفتار ہوں جانا

Munawwar Rana

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.