puura dukh aur aadha chand hijr ki shab aur aisa chand din men vahshat bahal gai raat hui aur nikla chand kis maqtal se guzra hoga itna sahma sahma chand yadon ki abad gali men ghuum raha hai tanha chand meri karvat par jaag utthe niind ka kitna kachcha chand mere munh ko kis hairat se dekh raha hai bhola chand itne ghane badal ke pichhe kitna tanha hoga chand aansu roke nuur nahae dil dariya tan sahra chand itne raushan chehre par bhi suraj ka hai saaya chand jab paani men chehra dekha tu ne kis ko socha chand bargad ki ik shakh hata kar jaane kis ko jhanka chand badal ke resham jhule men bhor samay tak soya chand raat ke shane par sar rakkhe dekh raha hai sapna chand sukhe patton ke jhurmut par shabnam thi ya nanha chand haath hila kar rukhsat hoga us ki surat hijr ka chand sahra sahra bhatak raha hai apne ishq men sachcha chand raat ke shayad ek baje hain sota hoga mera chand pura dukh aur aadha chand hijr ki shab aur aisa chand din mein wahshat bahal gai raat hui aur nikla chand kis maqtal se guzra hoga itna sahma sahma chand yaadon ki aabaad gali mein ghum raha hai tanha chand meri karwat par jag utthe nind ka kitna kachcha chand mere munh ko kis hairat se dekh raha hai bhola chand itne ghane baadal ke pichhe kitna tanha hoga chand aansu roke nur nahae dil dariya tan sahra chand itne raushan chehre par bhi suraj ka hai saya chand jab pani mein chehra dekha tu ne kis ko socha chand bargad ki ek shakh hata kar jaane kis ko jhanka chand baadal ke resham jhule mein bhor samay tak soya chand raat ke shane par sar rakkhe dekh raha hai sapna chand sukhe patton ke jhurmut par shabnam thi ya nanha chand hath hila kar rukhsat hoga us ki surat hijr ka chand sahra sahra bhatak raha hai apne ishq mein sachcha chand raat ke shayad ek baje hain sota hoga mera chand
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
More from Parveen Shakir
اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب
Parveen Shakir
2 likes
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
7 likes
خوشی آنکھ ہے وہ ہے وہ پھروں اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی خٹک رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے خیال سے گریزاں حقیقت مری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے م گر دل خط پیسہ ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ ک سے کے ساتھ باتیں اور ذہن ک ہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر ہے وہ ہے وہ ہے سمندر ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے اک چاند صلیب شاخ گل پر بالی کی طرح لٹک رہا ہے
Parveen Shakir
3 likes
قبائیں کر مری بازو اڑان چھوڑ گیا تو ہوا کے پا سے برہ لگ کمان چھوڑ گیا تو رفاقتوں کا مری ا سے کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی م گر آسمان چھوڑ گیا تو عجیب بے وجہ تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک فول دان چھوڑ گیا تو جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائےبان چھوڑ گیا تو نکل گیا تو کہی ان دیکھے پانیوں کی طرف ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا تو عقاب کو تھی غرض نقش قدم پکڑنے سے جو گر گئی تو یوںہی نیم جان چھوڑ گیا تو لگ جانے کون سا آسیب دل ہے وہ ہے وہ بستہ ہے کہ جو بھی ٹھہرا حقیقت آخر مکان چھوڑ گیا تو عقب ہے وہ ہے وہ گہرا سمندر ہے سامنے جنگل ک سے انتہا پہ میرا مہربان چھوڑ گیا تو
Parveen Shakir
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







