ghazalKuch Alfaaz

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ خال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخ نور جو اس میں ہے خورشید میں وہ نور کہاں یہ اگر حسن کا چشمہ ہے تو دریا ہے وہ رخ پھوٹے وہ آنکھ جو دیکھے نگہ بد سے اسے آئینہ سے دل عارف کے مصفا ہے وہ رخ بزم عالم ہے توجہ سے اسی کے آباد شہر ویراں ہے اگر جانب صحرا ہے وہ رخ سامری چشم فسوں گر کی فسوں سازی سے لب جاں بخش کے ہونے سے مسیحا ہے وہ رخ دم نظارہ لڑے مرتے ہیں عاشق اس پر دولت حسن کے پیش آنے سے دنیا ہے وہ رخ سایہ کرتے ہیں ہما اڑ کے پروں سے اپنے تیرے رخسار سے دلچسپ ہو عنقا ہے وہ رخ گل غلط لالہ غلط مہر غلط ماہ غلط کوئی ثانی نہیں لا ثانی ہے یکتا ہے وہ رخ کون سا اس میں تکلف نہیں پاتے ہر چند نہ مرصع نہ مذہب نہ مطلا ہے وہ رخ خال ہندو ہیں پرستش کے لیے آئے ہیں پتلیاں آنکھوں کی دو بت ہیں کلیسا ہے وہ رخ کون سا دل ہے جو دیوانہ نہیں ہے اس کا خط شب رنگ سے سرمایۂ سودا ہے وہ رخ اس کے دیدار کی کیوں کر نہ ہوں آنکھیں مشتاق دل ربا شے ہے عجب صورت زیبا ہے وہ رخ تا کجا شرح کروں حسن کے اس کے آتشؔ مہر ہے ماہ ہے جو کچھ ہے تماشا ہے وہ رخ

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں

Madan Mohan Danish

27 likes

منا کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون آوازوں کے بازاروں ہے وہ ہے وہ خموشی فنا فی ال عشق کون صدیوں صدیوں وہی تماشا رستہ رستہ لمبی کھوج لیکن جب ہم مل جاتے ہیں کھو جاتا ہے جانے کون حقیقت مری پرچھائیں ہے یا ہے وہ ہے وہ ا سے کا آئی لگ ہوں مری ہی گھر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے مجھ جیسا ہی جانے کون جانے کیا کیا بول رہا تھا سرحد پیار کتابیں خون کل مری نیندوں ہے وہ ہے وہ چھپ کر جاگ رہا تھا جانے کون کرن کرن الساتا سورج پلک پلک کھلتی نیندیں دھیمے دھیمے بکھر رہا ہے ذرہ ذرہ جانے کون

Nida Fazli

10 likes

हम ऐसे सर-फिरे दुनिया को कब दरकार होते हैं अगर होते भी हैं बे-इंतिहा दुश्वार होते हैं ख़मोशी कह रही है अब ये दो-आबा रवाँ होगा हवा चुप हो तो बारिश के शदीद आसार होते हैं ज़रा सी बात है इस का तमाशा क्या बनाएँ हम इरादे टूटते हैं हौसले मिस्मार होते हैं शिकायत ज़िंदगी से क्यूँँ करें हम ख़ुद ही थम जाएँ जो कम-रफ़्तार होते हैं वो कम-रफ़्तार होते हैं गले में ज़िंदगी के रीसमान-ए-वक़्त है तो क्या परिंदे क़ैद में हों तो बहुत हुश्यार होते हैं जहाँ वाले मुक़य्यद हैं अभी तक अहद-ए-तिफ़्ली में यहाँ अब भी खिलौने रौनक़-ए-बाज़ार होते हैं गुलू-ए-ख़ुश्क उन को भेजता है दे के मश्कीज़ा कुछ आँसू तिश्ना-कामों के अलम-बरदार होते हैं बदन उन को कभी बाहर निकलने ही नहीं देता 'क़मर-अब्बास' तो बा-क़ाएदा तय्यार होते हैं

Abbas Qamar

9 likes

More from Haidar Ali Aatish

وہی چت ون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی نشو و نما سبزہ ہے گور غریباں پر ہوا چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سے سلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن بھر کا وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے رواج عشق کے آئیں وہی ہیں کشور دل میں رہ و رسم وفا جاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی جی کا جلانا ہے پکانا ہے وہی دل کا وہ اس کی گرم بازاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے نیاز خادمانہ ہے وہی فضل الہی سے بتوں کی خیرو جو آگے تھی سو اب بھی ہے فراق یار میں جس طرح سے مرتا تھا مرتا ہوں وہ روح و تن کی بے زاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سودا کاکل کا ہے عالم جو کہ سابق تھا یہ شب بیمار پر بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے جنوں کی گرم جوشی ہے وہی دیوانوں سے اپنی وہی داغوں کی گل کاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی بازار گرمی ہے محبت کی ہنوز آتش وہ یوسف کی خریداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

Haidar Ali Aatish

0 likes

عطر فروش تری ہر رنگ ہے وہ ہے وہ اے یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے یوسف تھا ا گر تو تو خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے داد کی محفل ہے وہ ہے وہ سزا وار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تقصیر کسی کی ہوں گنہگار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے وعدہ تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے لب بام آنے کا ہونا سائے کی طرح سے پ سے دیوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے کنگھی تری زلفوں کی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تھی مقرر آئی لگ دکھاتے تجھے ہر بار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے نعمت تھی تری حسن کی حصے ہے وہ ہے وہ ہمارے تو کان ملاحت تھا خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے سودا زدہ زلفوں کا لگ تھا اپنے سوا ایک آزاد دو عالم تھا گرفتار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب تھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بیمار محبت تھا سوا اپنے لگ کوئی اک مستحق شربت دیدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے اپنے بہلتی تھی طبیعت لگ کسی سے دل سوز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تری غم خوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے اک جنبش مژگاں سے نور صفا آتا تھا ہ ہے وہ ہے و

Haidar Ali Aatish

0 likes

صورت سے ا سے کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول ا گر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت تری دہن کو کیا منطقی کریںگے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائےگا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے معذور رکھیے سمے فرصت نہیں ہے کوئی ہم کیا کہی کسی سے کیا ہے طریق اپنا مذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہوں تو حاضر حاضر جو کچھ ہے ا سے ہے وہ ہے وہ حجت نہیں ہے کوئی ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا نا آشنا معنی صورت نہیں ہے کوئی دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول ا سے پری کا خاکی و آتشیں سے نسبت نہیں ہے کوئی ہزدا ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا تجھ کو لگ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی نازاں لگ حسن پر ہوں مہمان ہے چار دن کا ب اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں کیوںکر ک ہوں ہے وہ ہے وہ مجھ کو حسرت نہ

Haidar Ali Aatish

0 likes

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر لگ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زما لگ بدلتا رہتا ہے سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے لٹاتے شب فراق کو مختلف ہے وہ ہے وہ ہم تلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے ہمیشہ ہے وہ ہے وہ نے گریباں کو چاک چاک کیا تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم ہم نوا ہونے کی آزاد آرزو کرتے بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم ستارہ سحری تکمہ گلو کرتے یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبت رکھ یار یہ بے سبب نہیں اکھاڑیں گے کو قبلہ رو کرتے سکھاتے نالہ شب گیر کو در اندازی غم فراق کا ا سے چرخ کو عدو کرتے حقیقت جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی دل و ج گر کو ک ہاں تک بھلا لہو کرتے لگ پوچھ عالم برگشتہ طلائی آتش برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

Haidar Ali Aatish

0 likes

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے چھوؤں گا آتے ہیں درمیان کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آ سماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں ہے وہ ہے وہ داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نہشے ہے وہ ہے وہ جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں کیسے کیسے غضب کیا چھوٹا روح سے جامہ تن لوٹے راہ ہے وہ ہے وہ کارواں کیسے کیسے تب ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے لگ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا بے حیائی رہے نیم جاں کیسے کیسے لگ گور سکندر لگ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے بہار گلستاں کی ہے آمد آمد خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے برق نے تیری ہمارے مسیحا توانا کیے نا توان کیسے کیسے دل و دیدہ اہل عالم ہے وہ ہے وہ گھر ہے تمہارے لیے ہیں مکان کیسے کیسے غم و غصہ و رنج و اندوہ و ہیرماں ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے تری کلک قدرت کے قربان آنکھیں د کھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے کرے ج سے دودمان شکر نعمت حقیقت کم ہے مزے لوٹتی ہے زبان

Haidar Ali Aatish

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Haidar Ali Aatish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Haidar Ali Aatish's ghazal.