raat tarik raste khamosh manzilon tak hain qumqume khamosh arzuon ke dhe gae ahram hasraton ke hain maqbare khamosh dil ke ujde nagar se guzre hain kitni yadon ke qafile khamosh muntazir the jo meri aamad ke hain munderon pe vo diye khamosh mere mustaqbil-e-mohabbat par zindagi ke hain tajribe khamosh zehn-e-azar hai khvab-gah-e-jumud fikr-o-fan ke hain but-kade khamosh raat tarik raste khamosh manzilon tak hain qumqume khamosh aarzuon ke dhe gae ahram hasraton ke hain maqbare khamosh dil ke ujde nagar se guzre hain kitni yaadon ke qafile khamosh muntazir the jo meri aamad ke hain munderon pe wo diye khamosh mere mustaqbil-e-mohabbat par zindagi ke hain tajribe khamosh zehn-e-azar hai khwab-gah-e-jumud fikr-o-fan ke hain but-kade khamosh
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
جب سے ا سے نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف ا سے کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اب تک جتنے بھی لوگوں ہے وہ ہے وہ خود کو بانٹا ہے بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف ایک طرف مجھے جل گرا ہے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ گھر کرنے کی ایک طرف حقیقت کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف ا سے کی آنکھوں نے مجھ سے مری خودداری چینی ورنا پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا ہے وہ ہے وہ دنیا ایک طرف مری مرضی تھی ہے وہ ہے وہ زرے چنتا یا لہریں چنتا ا سے نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف
Tehzeeb Hafi
122 likes
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے
Ahmad Abdullah
50 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iqbal Mahir.
Similar Moods
More moods that pair well with Iqbal Mahir's ghazal.







