rang pairahan ka khushbu zulf lahrane ka naam mausam-e-gul hai tumhare baam par aane ka naam dosto us chashm o lab ki kuchh kaho jis ke baghhair gulsitan ki baat rangin hai na mai-khane ka naam phir nazar men phuul mahke dil men phir shamen jalin phir tasavvur ne liya us bazm men jaane ka naam dilbari thahra zaban-e-khalq khulvane ka naam ab nahin lete pari-ru zulf bikhrane ka naam ab kisi laila ko bhi iqrar-e-mahbubi nahin in dinon badnam hai har ek divane ka naam mohtasib ki khair uncha hai usi ke faiz se rind ka saaqi ka mai ka khum ka paimane ka naam ham se kahte hain chaman vaale ghhariban-e-chaman tum koi achchha sa rakh lo apne virane ka naam 'faiz' un ko hai taqaza-e-vafa ham se jinhen ashna ke naam se pyara hai begane ka naam rang pairahan ka khushbu zulf lahrane ka nam mausam-e-gul hai tumhaare baam par aane ka nam dosto us chashm o lab ki kuchh kaho jis ke baghair gulsitan ki baat rangin hai na mai-khane ka nam phir nazar mein phul mahke dil mein phir shamen jalin phir tasawwur ne liya us bazm mein jaane ka nam dilbari thahra zaban-e-khalq khulwane ka nam ab nahin lete pari-ru zulf bikhrane ka nam ab kisi laila ko bhi iqrar-e-mahbubi nahin in dinon badnam hai har ek diwane ka nam mohtasib ki khair uncha hai usi ke faiz se rind ka saqi ka mai ka khum ka paimane ka nam hum se kahte hain chaman wale ghariban-e-chaman tum koi achchha sa rakh lo apne virane ka nam 'faiz' un ko hai taqaza-e-wafa hum se jinhen aashna ke nam se pyara hai begane ka nam
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا
Zubair Ali Tabish
48 likes
سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا
Bashir Badr
43 likes
تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں
Zubair Ali Tabish
38 likes
سورج ستارے تم چاند مری ساتھ ہے وہ ہے وہ رہے جب تک تمہارے ہاتھ مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ رہے سانسوں کی طرح ساتھ رہے ساری زندگی جاناں خواب سے گئے تو خیالات ہے وہ ہے وہ رہے ہر بوند تیر بن کے اترتی ہے روح ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا مری طرح کوئی برسات ہے وہ ہے وہ رہے ہر رنگ ہر مزاج ہے وہ ہے وہ پایا ہے آپ کو موسم تمام آپ کی خدمت ہے وہ ہے وہ رہے شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کے اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
28 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
رہ خزاں ہے وہ ہے وہ تلاش بہار کرتے رہے شب سیاہ سے طلب حسن یار کرتے رہے خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایت ہجران کہ ا سے وسیلے سے ہم ان سے رشتہ دل چارہ ساز کرتے رہے حقیقت دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار لگ تھی ہم ان ہے وہ ہے وہ تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار لگ تھے ہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے ضیا بزم ج ہاں بار بار ماند ہوئی حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







