ghazalKuch Alfaaz

rukhsat hua to aankh mila kar nahin gaya vo kyuun gaya hai ye bhi bata kar nahin gaya vo yuun gaya ki bad-e-saba yaad aa gai ehsas tak bhi ham ko dila kar nahin gaya yuun lag raha hai jaise abhi laut aaega jaate hue charaghh bujha kar nahin gaya bas ik lakir khinch gaya darmiyan men divar raste men bana kar nahin gaya shayad vo mil hi jaae magar justuju hai shart vo apne naqsh-e-pa to mita kar nahin gaya ghar men hai aaj tak vahi khushbu basi hui lagta hai yuun ki jaise vo aa kar nahin gaya tab tak to phuul jaisi hi taaza thi us ki yaad jab tak vo pattiyon ko juda kar nahin gaya rahne diya na us ne kisi kaam ka mujhe aur khaak men bhi mujh ko mila kar nahin gaya vaisi hi be-talab hai abhi meri zindagi vo khar-o-khas men aag laga kar nahin gaya 'shahzad' ye gila hi raha us ki zaat se jaate hue vo koi gila kar nahin gaya rukhsat hua to aankh mila kar nahin gaya wo kyun gaya hai ye bhi bata kar nahin gaya wo yun gaya ki baad-e-saba yaad aa gai ehsas tak bhi hum ko dila kar nahin gaya yun lag raha hai jaise abhi laut aaega jate hue charagh bujha kar nahin gaya bas ek lakir khinch gaya darmiyan mein diwar raste mein bana kar nahin gaya shayad wo mil hi jae magar justuju hai shart wo apne naqsh-e-pa to mita kar nahin gaya ghar mein hai aaj tak wahi khushbu basi hui lagta hai yun ki jaise wo aa kar nahin gaya tab tak to phul jaisi hi taza thi us ki yaad jab tak wo pattiyon ko juda kar nahin gaya rahne diya na us ne kisi kaam ka mujhe aur khak mein bhi mujh ko mila kar nahin gaya waisi hi be-talab hai abhi meri zindagi wo khar-o-khas mein aag laga kar nahin gaya 'shahzad' ye gila hi raha us ki zat se jate hue wo koi gila kar nahin gaya

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Shahzad Ahmad

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا حقیقت غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ ک سے خرابے ہے وہ ہے وہ دنیا نے لا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جاں ہے وہ ہے وہ اسے جذب ک سے طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا چکا ہوں مری واسطے ادا سے لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا کسی نے یہ لگ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا ہمارے دل ہے وہ ہے وہ ہے کیا جھانک کر لگ دیکھ سکے خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا حقیقت تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا حقیقت صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ملا بھی تو ا سے نے بات لگ کی کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں ہم زاد خدا نے بھی تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر گرا کے چھوڑ دیا

Shahzad Ahmad

5 likes

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے اک نظر مری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے مری رسوائی ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی ہیں برابر کے شریک مری قصے مری یاروں کو سناتا کیا ہے پا سے رہ کر بھی لگ پہچان سکا تو مجھ کو دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے لگ بنا غور سے دیکھتا جا راہ ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے سفر شوق ہے وہ ہے وہ کیوں کانپتے ہیں پاؤں تری آنکھ رکھتا ہے تو پھروں آنکھ چراتا کیا ہے عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے تو مجھے مری ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے دھوپ ہے وہ ہے وہ بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے مر گئے پیا سے کے مارے تو اٹھا ابر کرم بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترا کچھ بھی نہیں ہوں م گر اتنا تو بتا دیکھ کر مجھ کو تری ذہن ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے تیرا احسا سے ذرا سا تری ہستی پایاب تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے تجھ ہے وہ ہے وہ ک سے ب

Shahzad Ahmad

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shahzad Ahmad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shahzad Ahmad's ghazal.