ghazalKuch Alfaaz

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ا سے نے دو چار کر دیا مجھ کو ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو کیوں نہیں دسترسی ہے وہ ہے وہ تو مری کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو کبھی پتھر کبھی خدا ا سے نے چاہا جو یار کر دیا مجھ کو ا سے سے کوئی سوال مت کرنا ا سے نے انکار کر دیا مجھ کو ایک انسان ہی تو مانگا تھا اس کا کا کو بھی مار کر دیا مجھ کو

Himanshi babra KATIB

51 likes

سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو

Nida Fazli

61 likes

टूटने पर कोई आए तो फिर ऐसा टूटे कि जिसे देख के हर देखने वाला टूटे अपने बिखरे हुए टुकड़ों को समेटे कब तक एक इंसान की ख़ातिर कोई कितना टूटे कोई टुकड़ा तेरी आँखों में न चुभ जाए कहीं दूर हो जा कि मेरे ख़्वाब का शीशा टूटे मैं किसी और को सोचूँ तो मुझे होश आए मैं किसी और को देखूँ तो ये नश्शा टूटे रंज होता है तो ऐसा कि बताए न बने जब किसी अपने के बाइ'से कोई अपना टूटे पास बैठे हुए यारों को ख़बर तक न हुई हम किसी बात पे इस दर्जा अनोखा टूटे इतनी जल्दी तो सँभलने की तवक़्क़ो' न करो वक़्त ही कितना हुआ है मेरा सपना टूटे दाद की भीक न माँग ऐ मेरे अच्छे शाएर जा तुझे मेरी दुआ है तेरा कासा टूटे तू उसे किस के भरोसे पे नहीं कात रही चर्ख़ को देखने वाली तेरा चर्ख़ा टूटे वर्ना कब तक लिए फिरता रहूँ उस को 'जव्वाद' कोई सूरत हो कि उम्मीद से रिश्ता टूटे

Jawwad Sheikh

31 likes

More from Sahir Ludhianvi

محبت ترک کی ہے وہ ہے وہ نے گریباں سی لیا ہے وہ ہے وہ نے زمانے اب تو خوش ہوں زہر یہ بھی پی لیا ہے وہ ہے وہ نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اب تک ک سے تمنا کے سہارے جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ا نہیں اپنا نہیں سکتا م گر اتنا بھی کیا کم ہے کہ کچھ مدت حسین خوابوں ہے وہ ہے وہ کھو کر جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ب سے اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بے حد دکھ سہ لیے ہے وہ ہے وہ نے بے حد دن جی لیا ہے وہ ہے وہ نے

Sahir Ludhianvi

0 likes

ہوں سے نصیب نظر کو کہی قرار نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ منتظر ہوں م گر تیرا انتظار نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ گلستاں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ بہار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں ابھی لگ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں تمہارے عہد وفا کو ہے وہ ہے وہ عہد کیا سمجھوں مجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں لگ جانے کتنے گلے ا سے ہے وہ ہے وہ مضطرب ہیں ندیم حقیقت ایک دل جو کسی کا گلہ گزاری نہیں گریز کا نہیں قائل حیات سے لیکن جو سچ ک ہوں کہ مجھے موت ناگوار نہیں یہ ک سے مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے کہ اب حیات پہ تیرا بھی اختیار نہیں

Sahir Ludhianvi

2 likes

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے کہنے کو دل کی بات جنہیں تھے ہم محفل ہے وہ ہے وہ آ گئے ہیں حقیقت اپنے نصیب سے نیلام ہوں رہا تھا کسی نازنین کا پیار قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے تیری وفا کی لاش پہ لا ہے وہ ہے وہ ہی ڈال دوں ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے

Sahir Ludhianvi

5 likes

اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں کچھ سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آتا تجھے کیا پیش کروں تری ملنے کی خوشی ہے وہ ہے وہ کوئی نغمہ چھیڑوں یا تری درد جدائی کا گلہ پیش کروں مری خوابوں ہے وہ ہے وہ بھی تو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ بھی تو کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں جو تری دل کو لبھائے حقیقت ادا مجھ ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں لگ تجھ کو کوئی تیری ہی ادا پیش کروں

Sahir Ludhianvi

8 likes

بھولے سے محبت کر بیٹھا نادان تھا بیچارا دل ہی تو ہے ہر دل سے غلطیاں ہوں جاتی ہے بگڑو لگ خدارا دل ہی تو ہے ا سے طرح نگاہیں مت پھیرو ایسا لگ ہوں دھڑکن رک جائے سینے ہے وہ ہے وہ کوئی پتھر تو نہیں احسا سے کا مارا دل ہی تو ہے جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماناں ہوتی ہے دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا لگ اشارہ دل ہی تو ہے بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے

Sahir Ludhianvi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.