اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں کچھ سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آتا تجھے کیا پیش کروں تری ملنے کی خوشی ہے وہ ہے وہ کوئی نغمہ چھیڑوں یا تری درد جدائی کا گلہ پیش کروں مری خوابوں ہے وہ ہے وہ بھی تو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ بھی تو کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں جو تری دل کو لبھائے حقیقت ادا مجھ ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں لگ تجھ کو کوئی تیری ہی ادا پیش کروں
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Sahir Ludhianvi
فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
Sahir Ludhianvi
2 likes
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے اے روح عصر جاگ ک ہاں سو رہی ہے تو آواز دے رہے ہیں پیغمبر صلیب سے ا سے رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے ہر گام پر ہے مجمع عشاق منتظر مقتل کی راہ ملتی ہے کو حبیب سے ا سے طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ چنو کوئی نباہ رہا ہوں رقیب سے
Sahir Ludhianvi
3 likes
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں خموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمہیں تر سے رہے ہیں جواں پھول ہونٹ چھونے کو مچل مچل کے ہوائیں بلا رہی ہیں تمہیں تمہاری زلفوں سے خوشبو کی بھیک لینے کو جھکی جھکی سی گھٹائیں بلا رہی ہیں تمہیں حسین چمپئی پیروں کو جب سے دیکھا ہے ن گرا کی مست ادائیں بلا رہی ہیں تمہیں میرا کہا لگ سنو ان کی بات تو سن لو ہر ایک دل کی دعائیں بلا رہی ہیں تمہیں
Sahir Ludhianvi
7 likes
ہوں سے نصیب نظر کو کہی قرار نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ منتظر ہوں م گر تیرا انتظار نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ گلستاں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ بہار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں ابھی لگ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں تمہارے عہد وفا کو ہے وہ ہے وہ عہد کیا سمجھوں مجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں لگ جانے کتنے گلے ا سے ہے وہ ہے وہ مضطرب ہیں ندیم حقیقت ایک دل جو کسی کا گلہ گزاری نہیں گریز کا نہیں قائل حیات سے لیکن جو سچ ک ہوں کہ مجھے موت ناگوار نہیں یہ ک سے مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے کہ اب حیات پہ تیرا بھی اختیار نہیں
Sahir Ludhianvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







