فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Sahir Ludhianvi
محبت ترک کی ہے وہ ہے وہ نے گریباں سی لیا ہے وہ ہے وہ نے زمانے اب تو خوش ہوں زہر یہ بھی پی لیا ہے وہ ہے وہ نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اب تک ک سے تمنا کے سہارے جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ا نہیں اپنا نہیں سکتا م گر اتنا بھی کیا کم ہے کہ کچھ مدت حسین خوابوں ہے وہ ہے وہ کھو کر جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ب سے اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بے حد دکھ سہ لیے ہے وہ ہے وہ نے بے حد دن جی لیا ہے وہ ہے وہ نے
Sahir Ludhianvi
0 likes
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
ہوں سے نصیب نظر کو کہی قرار نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ منتظر ہوں م گر تیرا انتظار نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ گلستاں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے رنگ بہار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں ابھی لگ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں تمہارے عہد وفا کو ہے وہ ہے وہ عہد کیا سمجھوں مجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں لگ جانے کتنے گلے ا سے ہے وہ ہے وہ مضطرب ہیں ندیم حقیقت ایک دل جو کسی کا گلہ گزاری نہیں گریز کا نہیں قائل حیات سے لیکن جو سچ ک ہوں کہ مجھے موت ناگوار نہیں یہ ک سے مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے کہ اب حیات پہ تیرا بھی اختیار نہیں
Sahir Ludhianvi
2 likes
بھولے سے محبت کر بیٹھا نادان تھا بیچارا دل ہی تو ہے ہر دل سے غلطیاں ہوں جاتی ہے بگڑو لگ خدارا دل ہی تو ہے ا سے طرح نگاہیں مت پھیرو ایسا لگ ہوں دھڑکن رک جائے سینے ہے وہ ہے وہ کوئی پتھر تو نہیں احسا سے کا مارا دل ہی تو ہے جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماناں ہوتی ہے دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا لگ اشارہ دل ہی تو ہے بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے
Sahir Ludhianvi
4 likes
دور رہ کر لگ کروں بات قریب آ جاؤ یاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤ ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کی آج ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات قریب آ جاؤ سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن ہے وہ ہے وہ شعلے جان لے لےگی یہ برسات قریب آ جاؤ ا سے دودمان ہم سے جھجکنے کی ضرورت کیا ہے زندگی بھر کا ہے اب ساتھ قریب آ جاؤ
Sahir Ludhianvi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







