دور رہ کر لگ کروں بات قریب آ جاؤ یاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤ ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کی آج ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات قریب آ جاؤ سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن ہے وہ ہے وہ شعلے جان لے لےگی یہ برسات قریب آ جاؤ ا سے دودمان ہم سے جھجکنے کی ضرورت کیا ہے زندگی بھر کا ہے اب ساتھ قریب آ جاؤ
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Sahir Ludhianvi
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
Sahir Ludhianvi
2 likes
بھولے سے محبت کر بیٹھا نادان تھا بیچارا دل ہی تو ہے ہر دل سے غلطیاں ہوں جاتی ہے بگڑو لگ خدارا دل ہی تو ہے ا سے طرح نگاہیں مت پھیرو ایسا لگ ہوں دھڑکن رک جائے سینے ہے وہ ہے وہ کوئی پتھر تو نہیں احسا سے کا مارا دل ہی تو ہے جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماناں ہوتی ہے دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا لگ اشارہ دل ہی تو ہے بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے
Sahir Ludhianvi
4 likes
سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں خدا ملا ہوں جنہیں حقیقت خدا کی بات کریں انہیں پتا بھی چلے اور حقیقت خفا بھی نہ ہوں ای سے احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں ہمارے عہد کی برزخ ہے وہ ہے وہ قباء ہی نہیں اگر قباء ہوں تو بند قبا کی بات کریں ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایا کریں تو ہم بھی مگر کہ سے خدا کی بات کریں وفا شعار کئی ہیں کوئی حسین بھی تو ہوں چلو پھروں آج اسی بےوفا کی بات کریں
Sahir Ludhianvi
6 likes
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے کہنے کو دل کی بات جنہیں تھے ہم محفل ہے وہ ہے وہ آ گئے ہیں حقیقت اپنے نصیب سے نیلام ہوں رہا تھا کسی نازنین کا پیار قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے تیری وفا کی لاش پہ لا ہے وہ ہے وہ ہی ڈال دوں ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے
Sahir Ludhianvi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







