سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں خدا ملا ہوں جنہیں حقیقت خدا کی بات کریں انہیں پتا بھی چلے اور حقیقت خفا بھی نہ ہوں ای سے احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں ہمارے عہد کی برزخ ہے وہ ہے وہ قباء ہی نہیں اگر قباء ہوں تو بند قبا کی بات کریں ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایا کریں تو ہم بھی مگر کہ سے خدا کی بات کریں وفا شعار کئی ہیں کوئی حسین بھی تو ہوں چلو پھروں آج اسی بےوفا کی بات کریں
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں
Umair Najmi
59 likes
More from Sahir Ludhianvi
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
محبت ترک کی ہے وہ ہے وہ نے گریباں سی لیا ہے وہ ہے وہ نے زمانے اب تو خوش ہوں زہر یہ بھی پی لیا ہے وہ ہے وہ نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اب تک ک سے تمنا کے سہارے جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ا نہیں اپنا نہیں سکتا م گر اتنا بھی کیا کم ہے کہ کچھ مدت حسین خوابوں ہے وہ ہے وہ کھو کر جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ب سے اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بے حد دکھ سہ لیے ہے وہ ہے وہ نے بے حد دن جی لیا ہے وہ ہے وہ نے
Sahir Ludhianvi
0 likes
بھولے سے محبت کر بیٹھا نادان تھا بیچارا دل ہی تو ہے ہر دل سے غلطیاں ہوں جاتی ہے بگڑو لگ خدارا دل ہی تو ہے ا سے طرح نگاہیں مت پھیرو ایسا لگ ہوں دھڑکن رک جائے سینے ہے وہ ہے وہ کوئی پتھر تو نہیں احسا سے کا مارا دل ہی تو ہے جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماناں ہوتی ہے دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا لگ اشارہ دل ہی تو ہے بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے
Sahir Ludhianvi
4 likes
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے کہنے کو دل کی بات جنہیں تھے ہم محفل ہے وہ ہے وہ آ گئے ہیں حقیقت اپنے نصیب سے نیلام ہوں رہا تھا کسی نازنین کا پیار قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے تیری وفا کی لاش پہ لا ہے وہ ہے وہ ہی ڈال دوں ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے
Sahir Ludhianvi
5 likes
دور رہ کر لگ کروں بات قریب آ جاؤ یاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤ ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کی آج ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات قریب آ جاؤ سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن ہے وہ ہے وہ شعلے جان لے لےگی یہ برسات قریب آ جاؤ ا سے دودمان ہم سے جھجکنے کی ضرورت کیا ہے زندگی بھر کا ہے اب ساتھ قریب آ جاؤ
Sahir Ludhianvi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







