ghazalKuch Alfaaz

سمجھتی ہے غلط دنیا کہ دل نادان ہے یاروں اسے بھی آدمی کی اب ذرا پہچان ہے یاروں ویروہی ٹیم ہے وہ ہے وہ تھا تو اسے باہر بٹھاتے تھے ہماری ٹیم ہے وہ ہے وہ آ کر بنا کپتان ہے یاروں تصور غضب تیور تمنا اور تنہائی ملیںگے پھول سب ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غزل گلدان ہے یاروں خدا کی بات ہے تو پھروں میرا کہنا ہے ب سے اتنا کتابی گیان سے بہتر ذرا سا دھیان ہے یاروں پڑھائی نوکری شا گرا پھروں ا سے کے بعد دو بچے ہماری زندگی اتنی ک ہاں آسان ہے یاروں

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Tanoj Dadhich

چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی پارک ہے وہ ہے وہ سب دوست میرے راہ دیکھیں ہیں میری اب تو جانے دو مجھے اب تو پڑھائی ہو گئی آدمی کو اور بچوں کو پتا چلتا نہیں روٹی سبزی کب بنی اور کب صفائی ہو گئی آؤ بیٹھو اب سنو تعریف میری دوستوں جس نے چھوڑا ہے مجھے اس کا کی برائی ہو گئی آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی

Tanoj Dadhich

13 likes

کل تک جو بے وجہ ساتھ مری تھا چلا گیا تو ایسا لگا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ تنکہ چلا گیا تو ملنے حقیقت آئی اور اکیلے ہی آئی ہیں زبان کہ کیچ چھوٹ کے چوکا چلا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بول جب رہا تھا نہیں روک پائے حقیقت سو رات بھر ہے وہ ہے وہ شعر سناتا چلا گیا تو کمزوریاں بتا کے اسے سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آٹے ہے وہ ہے وہ پانی حد سے زیادہ چلا گیا تو بے فکر تھا تنوچ خبر ہی نہیں ہوئی حقیقت پا سے آیا دل کو نکالا چلا گیا تو

Tanoj Dadhich

17 likes

کل ا سے کی شایمل ہے وہ ہے وہ نے اتاری م گر مت پوچھنا کیسے اتاری گلے تک آ گئی تھی بات مری سو پانی پی لیا نیچے اتاری اسے بھی موت نے کچھ دن پکارا حقیقت ج سے نے لاش پنکھے سے اتاری

Tanoj Dadhich

11 likes

سمجھتی ہے غزل دنیا کہ دل نادان ہے یاروں اسے بھی آدمی کی اب ذرا پہچان ہے یاروں ویروہی ٹیم ہے وہ ہے وہ تھا تو اسے باہر بٹھاتے تھے ہماری ٹیم ہے وہ ہے وہ آ کر بنا کپتان ہے یاروں تصور غضب تیور تمنا اور تنہائی ملیںگے پھول سب ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غزل گلدان ہے یاروں خدا کی بات ہے تو پھروں میرا کہنا ہے ب سے اتنا کتابی گیان سے بہتر ذرا سا دھیان ہے یاروں پڑھائی نوکری شا گرا پھروں ا سے کے دو بچے ہماری زندگی اتنی ک ہاں آسان ہے یاروں

Tanoj Dadhich

5 likes

ڈرتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ کسی بھی امتحاں سے دوں گا سبھی جواب م گر اطمینان سے لوٹ آتی ہے صدا یوں مری جسم سے مری چنو کہ لوٹ آئی ہوں خالی مکان سے ا سے نے لیا گلاب م گر کچھ نہیں کہا نکلا نہیں ہے تیر ابھی بھی کمان سے لنکیش کو ہرایا تھا سیتا بچائی تھی بنتا تھا گھر کو لوٹنا پشپک ویمان سے خود کا ہی آسمان ہے کافی تنوچ کو جلتا نہیں حقیقت اور کسی کی اڑان سے

Tanoj Dadhich

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tanoj Dadhich.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tanoj Dadhich's ghazal.