ghazalKuch Alfaaz

सर-ब-सर यार की मर्ज़ी पे फ़िदा हो जाना क्या ग़ज़ब काम है राज़ी-ब-रज़ा हो जाना बंद आँखों वो चले आएँ तो वा हो जाना और यूँँ फूट के रोना कि फ़ना हो जाना इश्क़ में काम नहीं ज़ोर-ज़बरदस्ती का जब भी तुम चाहो जुदा होना जुदा हो जाना तेरी जानिब है ब-तदरीज तरक़्क़ी मेरी मेरे होने की है मे'राज तिरा हो जाना तेरे आने की बशारत के सिवा कुछ भी नहीं बाग़ में सूखे दरख़्तों का हरा हो जाना इक निशानी है किसी शहर की बर्बादी की नारवा बात का यक-लख़्त रवा हो जाना तंग आ जाऊँ मोहब्बत से तो गाहे गाहे अच्छा लगता है मुझे तेरा ख़फ़ा हो जाना सी दिए जाएँ मिरे होंट तो ऐ जान-ए-ग़ज़ल ऐसा करना मिरी आँखों से अदा हो जाना बे-नियाज़ी भी वही और तअ'ल्लुक़ भी वही तुम्हें आता है मोहब्बत में ख़ुदा हो जाना अज़दहा बन के रग-ओ-पै को जकड़ लेता है इतना आसान नहीं ग़म से रिहा हो जाना अच्छे अच्छों पे बुरे दिन हैं लिहाज़ा 'फ़ारिस' अच्छे होने से तो अच्छा है बुरा हो जाना

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

More from Rehman Faris

یہی دعا ہے یہی ہے سلام بخیر عشق رفقا کرام مری سبھی گزارشیں عشق رفقا کرام دیار ہجر کی سونی ادا سے گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق رفقا کرام ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر رہا تھا دعا کی گزارشیں ا سے سے سو کہ گئی ہے اداسی کی شام عشق رفقا کرام بڑے عجیب ہیں باشندے کے بعد از سلام ہمیشہ کہتے ہیں غزل وار عشق رفقا کرام یہ رہ ضرور تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے لکھا ہوا ہے ی ہاں گام گام عشق رفقا کرام نقص کی ہے داستان عشق داستان عشقسو ا سے کتاب کا رکھا ہے نام عشق رفقا کرام پیام عشق کے پار مجھے یاد کر رہا ہے کوئی ابھی ملا ہے ادھر سے تال میل رفقا کرام

Rehman Faris

2 likes

مجھے غرض ہے ستارے تم لگ ماہتاب کے ساتھ چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تلی سی محبت لگا بودا سا کرم نبھا رہے ہوں تعلق بڑے حساب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے نہیں تھکتا تری تعاقب سے مجھے یقین ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن سوال ختم نہیں ہوگا ا سے جواب کے ساتھ خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ جتا دیا کہ محبت ہے وہ ہے وہ غم بھی ہوتے ہیں دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے اڑوں گا تری خد و خال سے تعبیر لگ دیکھ مری طرف چشم نیم خواب کے ساتھ انتقامن یہ صرف بہانا ہے بات کرنے کا مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ وصال و ہجر کی سرحد پہ جھٹپٹے ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت بے حجاب ہوا تھا م گر حجاب کے ساتھ شکستہ آئی لگ دیکھا پھروں اپنا دل دیکھا دکھائی دی مجھے تعبیر خواب خواب کے ساتھ و ہاں گلنار ج ہاں دونوں سمے ملتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم نصیب تری چنو کامیاب کے ساتھ دیار ہ

Rehman Faris

4 likes

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسا لگ بنتا ہے سو سانحے یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے حقیقت لاکھ بے خبر و بے وفا صحیح لیکن طلب کیا ہے گر ا سے نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے میسج شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ میرا گھر جلا رہی ہے سو اب خاموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ توازن کی بات مت کیجے یہ مے کدہ ہے ی ہاں لڑکھڑانا بنتا ہے چیزیں والے تجھے ک سے طرح بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یاد آنا نہیں تیرا آنا بنتا ہے یہ دیکھ کر کہ تری عاشقوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں جمال یار ترا مسکرانا بنتا ہے جنوں بھی صرف دکھاوا ہے وحشتیں بھی غلط دیوا لگ ہے نہیں فار سے دیوا لگ بنتا ہے

Rehman Faris

1 likes

رات آ بیٹھی ہے پہلو ہے وہ ہے وہ ستارو تخلیہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ درکار ہے خلوت سو یاروں تخلیہ آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے سانحے نظر شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارہ تخلیہ دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے کج کلاہو بادشاہو تاج دارو تخلیہ غم سے اب ہوں گی براہ راست مری گفتگو دوستو تیمار دارو غم گسارو تخلیہ چار جانب ہے ہجوم لگ شناایان لگ سخن آج ملائے گا زور سے فار سے پکارو تخلیہ

Rehman Faris

2 likes

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو زندہ رہا سمے مر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سکوت شام ہے وہ ہے وہ چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے غضب شور بھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پہلے صرف مری آنکھ ہے وہ ہے وہ سمایا تھا پھروں ایک روز رگوں تک اتر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ ایسے دھیان ہے وہ ہے وہ چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر نکھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ذات سے منکر تھا اور پھروں اک دن حقیقت اپنے ہونے کا اعلان کر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھنڈر سمجھ کے مری سیر کرنے آیا تھا گیا تو تو تو موسم غم پھول دھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلی ہے وہ ہے وہ گونجی خموشی کی چیخ رات کے سمے تمہاری یاد کا بچہ سا ڈر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا ہے وہ ہے وہ کیا کروں دل نام کے ا سے آنگن کا تری امید پہ جو سج سنور گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے فار سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے ہے وہ ہے وہ سمٹا رہا حقیقت بکھر گیا ت

Rehman Faris

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehman Faris.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehman Faris's ghazal.