ghazalKuch Alfaaz

سر سے پا تک حقیقت گلابوں کا شجر لگتا ہے باوضو ہوں کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ ہے وہ ہے وہ رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا خود سے تنہائی ہے وہ ہے وہ ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں دل میرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں پھیلاؤں تو دیوار ہے وہ ہے وہ سر لگتا ہے

Bashir Badr13 Likes

Related Ghazal

سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں

Kushal Dauneria

43 likes

اشعار مری یوں تو زمانے کے لیے ہیں کچھ شعر فقط ان کو سنہانے کے لیے ہیں اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں سوچو تو بڑی چیز ہے برزخ بدن کی ور لگ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ جو بھر لوگے تو کانٹوں سے چبھیں گے یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں دیکھوں تری ہاتھوں کو تو لگتا ہے تری ہاتھ مندیر ہے وہ ہے وہ فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک بے وجہ کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

Jaan Nisar Akhtar

28 likes

اذیت ہے کہ روز و شب گھٹن محسو سے ہوتی ہے بھلے ہوں پا سے مری سب گھٹن محسو سے ہوتی ہے گھٹن مری دیوانی ہے گھٹن کا ہے وہ ہے وہ دیوا لگ ہوں زمانے کو بنا زار گھٹن محسو سے ہوتی ہے مجھے تجھ پر نہیں خود پر بے حد افسو سے ہوتا ہے تری ہوتے ہوئے بھی جب گھٹن محسو سے ہوتی ہے وہی ج سے باغ ہے وہ ہے وہ سب لوگ تازہ سان سے لیتے ہیں مجھے ا سے باغ ہے وہ ہے وہ بھی اب گھٹن محسو سے ہوتی ہے

Ahmad Abdullah

26 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Bashir Badr

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا

Bashir Badr

1 likes

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے

Bashir Badr

1 likes

شام آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنکھ پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پانی سرا فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھلملااتے ہیں کشتیوں ہے وہ ہے وہ دیے پل کھڑے سو رہے ہیں پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک ہوں جائے گی زمین اک دن آسمانوں کی آسمانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوا ہے اسے ک ہاں ڈھونڈوں آگ ہے وہ ہے وہ خاک ہے وہ ہے وہ کہ پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ پہاڑوں کی طرح سامنے آ ان دنوں ہے وہ ہے وہ بھی ہوں روانی ہے وہ ہے وہ

Bashir Badr

3 likes

حقیقت چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے بے حد عزیز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے م گر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آ سماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے ک ہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے ا سے اجنبی کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ کون آیا ہے مہک رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بے حد ستایا ہے تمام عمر میرا دل اسی دھوئیں ہے وہ ہے وہ گھٹا حقیقت اک چراغ تھا ہے وہ ہے وہ نے اسے بجھایا ہے

Bashir Badr

5 likes

پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے

Bashir Badr

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.