فرماتا ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روح بن کر زرے زرے ہے وہ ہے وہ سما جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کہ تجھ بن ا سے طرح اے دوست افسا لگ ہستی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو ہر اجازت ہے وہ ہے وہ کسی اجازت کی کمی پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دودمان دہراتا کو بے گا لگ ہستی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور بھی مکان و لا مکان ہوا جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب یک ب یک سب سے گزر جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اللہ اللہ تجھ کو خود اپنی جگہ پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری صورت کا جو آئی لگ اسے پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے دل پر آپ کیا کیا ناز فرماتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھبرا نزدیک تر کے جتنی دور ہٹ آتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور بھی ا سے شوخ کو نزدیک تر پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ہستی اضطراب مری فطرت اضطراب کوئی منزل ہوں م گر گزرا چلا جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترک محبت مجبوریاں سمجھاتے کے لیے مجھ کو سلجھ ہیں حقیقت اور ان کو سمجھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ہمت دیکھنا مری طبیعت دیکھنا جو گتھی جاتی ہے الجھ
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Jigar Moradabadi
جو اب بھی لگ تکلیف فرمائیےگا تو ب سے ہاتھ ملتے ہی رہ جائیےگا نگا ہوں سے چھپ کر ک ہاں جائیےگا ج ہاں جائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پائیےگا میرا جب برا حال سن پائیےگا خراماں خراماں چلے آئیے گا مٹا کر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ پچھتائیےگا کمی کوئی محسو سے فرمائیےگا نہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقت سمجھ لیجیےگا تو سمجھائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پر ک ہاں تک برق لگ فرمائیےگا ستم عشق ہے وہ ہے وہ آپ آساں لگ سمجھیں تڑپ جائیےگا جو تڑپائیےگا یہ دل ہے اسے دل ہی ب سے رہنے دیجئے کرم جون ایلیا تو پچھتائیےگا کہی چپ رہی ہے زبان محبت لگ فرمائیےگا تو فرمائیےگا بھلانا ہمارا مبارک مبارک م گر شرط یہ ہے لگ یاد آئیے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لگ اب چین آئےگا جب تک ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو لگ بھر لائیےگا تیرا جذبہ شوق ہے بے حقیقت ذرا پھروں تو ارشاد فرمائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب لگ ہوں گے تو کیا رنگ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمائیےگا محبت محبت ہی رہتی ہے لیکن ک ہاں
Jigar Moradabadi
2 likes
عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا
Jigar Moradabadi
1 likes
کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے
Jigar Moradabadi
1 likes
حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے
Jigar Moradabadi
1 likes
سبھی شعلہ خو پیاری ہیں ہم م گر سادگی کے مارے ہیں ا سے کی راتوں کا انتقام لگ پوچھ ج سے نے ہن سے ہن سے کے دن گزارے ہیں اے سہاروں کی زندگی والو کتنے انسان بے سہارے ہیں لالا و گل سے تجھ کو کیا نسبت نا مکمل سے استعارے ہیں ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے حقیقت رہیں شاد جو کنارے ہیں شب فرقت بھی جگمگا اٹھی خوشی غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں آتش عشق حقیقت جہنم ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تعلق کے نظارے ہیں حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے گیسو زندگی سنواردے ہیں حسن کی بے نیازیاں پہ لگ جا بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں
Jigar Moradabadi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jigar Moradabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.







