سبھی شعلہ خو پیاری ہیں ہم م گر سادگی کے مارے ہیں ا سے کی راتوں کا انتقام لگ پوچھ ج سے نے ہن سے ہن سے کے دن گزارے ہیں اے سہاروں کی زندگی والو کتنے انسان بے سہارے ہیں لالا و گل سے تجھ کو کیا نسبت نا مکمل سے استعارے ہیں ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے حقیقت رہیں شاد جو کنارے ہیں شب فرقت بھی جگمگا اٹھی خوشی غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں آتش عشق حقیقت جہنم ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تعلق کے نظارے ہیں حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے گیسو زندگی سنواردے ہیں حسن کی بے نیازیاں پہ لگ جا بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں
Related Ghazal
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
More from Jigar Moradabadi
عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا
Jigar Moradabadi
1 likes
کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے
Jigar Moradabadi
1 likes
अगर न ज़ोहरा-जबीनों के दरमियाँ गुज़रे तो फिर ये कैसे कटे ज़िंदगी कहाँ गुज़रे जो तेरे आरिज़ ओ गेसू के दरमियाँ गुज़रे कभी कभी वही लम्हे बला-ए-जाँ गुज़रे मुझे ये वहम रहा मुद्दतों कि जुरअत-ए-शौक़ कहीं न ख़ातिर-ए-मासूम पर गिराँ गुज़रे हर इक मक़ाम-ए-मोहब्बत बहुत ही दिलकश था मगर हम अहल-ए-मोहब्बत कशाँ कशाँ गुज़रे जुनूँ के सख़्त मराहिल भी तेरी याद के साथ हसीं हसीं नज़र आए जवाँ जवाँ गुज़रे मिरी नज़र से तिरी जुस्तुजू के सदक़े में ये इक जहाँ ही नहीं सैंकड़ों जहाँ गुज़रे हुजूम-ए-जल्वा में परवाज़-ए-शौक़ क्या कहना कि जैसे रूह सितारों के दरमियाँ गुज़रे ख़ता मुआ'फ़ ज़माने से बद-गुमाँ हो कर तिरी वफ़ा पे भी क्या क्या हमें गुमाँ गुज़रे मुझे था शिकवा-ए-हिज्राँ कि ये हुआ महसूस मिरे क़रीब से हो कर वो ना-गहाँ गुज़रे रह-ए-वफ़ा में इक ऐसा मक़ाम भी आया कि हम ख़ुद अपनी तरफ़ से भी बद-गुमाँ गुज़रे ख़ुलूस जिस में हो शामिल वो दौर-ए-इश्क़-ओ-हवस न राएगाँ कभी गुज़रा न राएगाँ गुज़रे उसी को कहते हैं जन्नत उसी को दोज़ख़ भी वो ज़िंदगी जो हसीनों के दरमियाँ गुज़रे बहुत हसीन मनाज़िर भी हुस्न-ए-फ़ितरत के न जाने आज तबीअत पे क्यूँँ गिराँ गुज़रे वो जिन के साए से भी बिजलियाँ लरज़ती थीं मिरी नज़र से कुछ ऐसे भी आशियाँ गुज़रे मिरा तो फ़र्ज़ चमन-बंदी-ए-जहाँ है फ़क़त मिरी बला से बहार आए या ख़िज़ाँ गुज़रे कहाँ का हुस्न कि ख़ुद इश्क़ को ख़बर न हुई रह-ए-तलब में कुछ ऐसे भी इम्तिहाँ गुज़रे भरी बहार में ताराजी-ए-चमन मत पूछ ख़ुदा करे न फिर आँखों से वो समाँ गुज़रे कोई न देख सका जिन को वो दिलों के सिवा मुआमलात कुछ ऐसे भी दरमियाँ गुज़रे कभी कभी तो इसी एक मुश्त-ए-ख़ाक के गिर्द तवाफ़ करते हुए हफ़्त आसमाँ गुज़रे बहुत हसीन सही सोहबतें गुलों की मगर वो ज़िंदगी है जो काँटों के दरमियाँ गुज़रे अभी से तुझ को बहुत नागवार हैं हमदम वो हादसात जो अब तक रवाँ-दवाँ गुज़रे जिन्हें कि दीदा-ए-शाइर ही देख सकता है वो इंक़िलाब तिरे सामने कहाँ गुज़रे बहुत अज़ीज़ है मुझ को उन्हें क्या याद 'जिगर' वो हादसात-ए-मोहब्बत जो ना-गहाँ गुज़रे
Jigar Moradabadi
2 likes
حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے
Jigar Moradabadi
1 likes
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پےہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دولت ہے غم زکات دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجبوری غصہ محبت تو دیکھنا جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل ک ہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے مجبوریاں ہیں ساتھ دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے شراب آب و زیست تھی اب آب و زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Jigar Moradabadi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jigar Moradabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.







