sitaron se aage jahan aur bhi hain abhi ishq ke imtihan aur bhi hain tahi zindagi se nahin ye fazaen yahan saikdon karvan aur bhi hain qanaat na kar alam-e-rang-o-bu par chaman aur bhi ashiyan aur bhi hain agar kho gaya ik nasheman to kya ghham maqamat-e-ah-o-fughhan aur bhi hain tu shahin hai parvaz hai kaam tera tire samne asman aur bhi hain isi roz o shab men ulajh kar na rah ja ki tere zaman o makan aur bhi hain gae din ki tanha tha main anjuman men yahan ab mire raz-dan aur bhi hain sitaron se aage jahan aur bhi hain abhi ishq ke imtihan aur bhi hain tahi zindagi se nahin ye fazaen yahan saikdon karwan aur bhi hain qanaat na kar aalam-e-rang-o-bu par chaman aur bhi aashiyan aur bhi hain agar kho gaya ek nasheman to kya gham maqamat-e-ah-o-fughan aur bhi hain tu shahin hai parwaz hai kaam tera tere samne aasman aur bhi hain isi roz o shab mein ulajh kar na rah ja ki tere zaman o makan aur bhi hain gae din ki tanha tha main anjuman mein yahan ab mere raaz-dan aur bhi hain
Related Ghazal
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Allama Iqbal
گلزار ہست و بود لگ بیگا لگ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ آیا ہے تو ج ہاں ہے وہ ہے وہ مثال شرار دیکھ دم دے لگ جائے ہستی نا پائیدار دیکھ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری ا گر ہر رہگزر ہے وہ ہے وہ نقش کف پا یار دیکھ
Allama Iqbal
1 likes
اثر کرے لگ کرے سن تو لے مری پڑنا نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہ آزاد یہ مشت خاک یہ سرسر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا لگ ہوا چمن ہے وہ ہے وہ خیمہ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصور وار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے لگ کر سکے آباد مری کہوں طلبی کو دعائیں دیتا ہے حقیقت دشت سادہ حقیقت تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں حقیقت گلستاں کہ ج ہاں گھات ہے وہ ہے وہ لگ ہوں صیاد مقام شوق زیاد تری قدسیوں کے ب سے کا نہیں انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں دل ہر ذرہ
Allama Iqbal
5 likes
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے ہے وہ ہے وہ اسے اور ذرا تھام ابھی پختہ ہوتی ہے ا گر مصلحت اندیش ہوں عقل عشق ہوں مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی بے خطر کود پڑا آتش نمرود ہے وہ ہے وہ عشق عقل ہے محوتماشا لب بام ابھی عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی شیوا عشق ہے آزا گرا و دہر آشوبی تو ہے زناری بت خا لگ ایام ابھی عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی ہے تری دل ہے وہ ہے وہ وہی کاوش انجام ابھی سعی پیہم ہے ترازو کم و کیف حیات تیری میزان ہے شمار سحر و شام ابھی ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تک مری کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی بادہ گردان عجم حقیقت عربی مری شراب مری میک اپ سے جھجکتے ہیں می آشام ابھی خبر حفیظ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم گلزار ناز نو گرفتار فڑکتا ہے تہ دام ابھی
Allama Iqbal
3 likes
لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے
Allama Iqbal
1 likes
اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







