اثر کرے لگ کرے سن تو لے مری پڑنا نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہ آزاد یہ مشت خاک یہ سرسر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا لگ ہوا چمن ہے وہ ہے وہ خیمہ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصور وار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے لگ کر سکے آباد مری کہوں طلبی کو دعائیں دیتا ہے حقیقت دشت سادہ حقیقت تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں حقیقت گلستاں کہ ج ہاں گھات ہے وہ ہے وہ لگ ہوں صیاد مقام شوق زیاد تری قدسیوں کے ب سے کا نہیں انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں دل ہر ذرہ
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Allama Iqbal
نہ آتے ہمیں ای سے ہے وہ ہے وہ تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے آر کیا تھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولا غلطیاں ای سے ہے وہ ہے وہ بندے کی سرکار کیا تھی بھری بزم ہے وہ ہے وہ اپنے عاشق کو تڑا تری آنکھ مستی ہے وہ ہے وہ ہوشیار کیا تھی تامل تو تھا ان کو آنے ہے وہ ہے وہ شکایت مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی کھنچے خود بخود جانب طور موسی کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی کہیں ذکر رہتا ہے حفیظ تیرا فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی
Allama Iqbal
2 likes
لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے
Allama Iqbal
1 likes
لا پھروں اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہوں آم اے ساقی میری مینا غزل ہے وہ ہے وہ تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شعر مردوں سے ہوا بیش تحقیق تہی رہ گئے صوفی و سر دامن کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگر دار قسمیں لی کہ سے نے علم کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ خالی ہے نیام اے ساقی سینا روشن ہوں تو ہے سوز سخن عین حیات ہوں نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تری پیمانے ہے وہ ہے وہ ہے ماہ تمام اے ساقی
Allama Iqbal
3 likes
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خو گرا کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی تری زندگی اسی سے تری رکھ اسی سے جو رہی خو گرا تو شاہی لگ رہی تو روسیاہی لگ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے مجھے کیا گلہ ہوں تجھ سے تو لگ رہ نشیں لگ راہی مری حلقہ سخن ہے وہ ہے وہ ابھی زیر تربیت ہیں حقیقت تکلیفوں کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی یہ معاملے ہیں چھوؤں گا جو تری رضا ہوں تو کر کہ مجھے تو خوش لگ آیا یہ طریق خانقاہی تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی تو عرب ہوں یا عجم ہوں ترا لا الہ آرا لغت غریب جب تک ترا دل لگ دے گواہی
Allama Iqbal
3 likes
تری عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہوں کہ ہوں وعدہ بے حجابی کوئی بات دل پامال آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے غم ہستی کو کہ ہے وہ ہے وہ آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دل ہوں م گر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہل محفل چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں بھری بزم ہے وہ ہے وہ راز کی بات کہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
Allama Iqbal
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







