ghazalKuch Alfaaz

تری عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہوں کہ ہوں وعدہ بے حجابی کوئی بات دل پامال آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے غم ہستی کو کہ ہے وہ ہے وہ آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دل ہوں م گر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہل محفل چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں بھری بزم ہے وہ ہے وہ راز کی بات کہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

More from Allama Iqbal

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal

0 likes

د گر گوں ہے ج ہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی غوغا رستاخیز ہے وہ ہے وہ متاع دین و دانش ہے ساقی خیرو لٹ گئی اللہ والوں کی یہ ک سے کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی وہی دیری لگ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج ا سے کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل ہے وہ ہے وہ سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی لگ دل گیر پھروں کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی نہیں ہے نا امید حفیظ اپنی کشت ویران سے ذرا نمہ ہوں تو یہ مٹی بے حد زرخیز ہے ساقی فقیر راہ کو بخشی گئے اسرار سلطانی بہا مری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

Allama Iqbal

4 likes

نہ آتے ہمیں ای سے ہے وہ ہے وہ تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے آر کیا تھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولا غلطیاں ای سے ہے وہ ہے وہ بندے کی سرکار کیا تھی بھری بزم ہے وہ ہے وہ اپنے عاشق کو تڑا تری آنکھ مستی ہے وہ ہے وہ ہوشیار کیا تھی تامل تو تھا ان کو آنے ہے وہ ہے وہ شکایت مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی کھنچے خود بخود جانب طور موسی کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی کہیں ذکر رہتا ہے حفیظ تیرا فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی

Allama Iqbal

2 likes

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ کیا اچھی کہی ظالم ہوں ہے وہ ہے وہ جاہل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جبیں تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی لگ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے حقیقت باطل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے چھپتے خزف چین لب ساحل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے مری ذلت ہی کچھ مری شرافت کی دلیل ج سے کی غفلت کو ملک روتے ہیں حقیقت غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں لگ ہوں تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.