ghazalKuch Alfaaz

تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے جی چاہتا ہے منت طفلان دادخواہی ہجر خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے پھروں آج پتھروں سے ملاقات کیجیے پھروں آج سطح آب پہ چہرے بنائیے ہر انکشاف درد کے پردے ہے وہ ہے وہ آئےگا گر ہوں سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے پھولوں کا راستہ نہیں یاروں میرا سفر پاؤں عزیز ہیں تو ابھی لوٹ جائیے کب تک حنا کے نام پہ دیتے رہیں لہو کب تک نگار درد کو دلہن بنائیے امجد متاع عمر ذرا دیکھ بھال کے ایسا لگ ہوں کہ بعد ہے وہ ہے وہ آنسو بہائیے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری

Umair Najmi

59 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو گھر کے اندر تو جھوٹوں کی ایک جوان فصلیں ہے دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے ناو ہے وہ ہے وہ ک سے نے چھید کیا ہے سچ بولو

Rahat Indori

71 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

More from Amjad Islam Amjad

پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے

Amjad Islam Amjad

0 likes

आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है

Amjad Islam Amjad

0 likes

تمہارا ہاتھ جب مری لرزتے ہاتھ سے چھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بہار آئی لگ تھی لیکن ہواؤں ہے وہ ہے وہ نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھی اچانک جب کہا جاناں نے مری منا پر مجھے جھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت کیا دن تھے یہیں ہم نے بہاروں کی دعا کی تھی کسی نے بھی نہیں سوچا چمن والوں نے مل کر جب خود اپنا ہی چمن لوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت گرفت م گر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب حقیقت باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بے حد ہی زور سے پیٹے ہوا کے بین پر سینے ہمارے خیرخوا ہوں نے کہ چان گرا کے ورق جیسا سمے نے جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لگ رت تھی آندھیوں کی یہ لگ موسم تھا ہواؤں کا تو پھروں یہ کیا ہوا امجد ہر اک کونپل ہوئی اڑھائی ہوا مجروح ہر بوٹا اڑائے کے آخری دن تھے

Amjad Islam Amjad

0 likes

بھیڑ ہے وہ ہے وہ اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر حقیقت کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن ا سے کا ایک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے ہے وہ ہے وہ چینی ملانا ا سے گھڑی بھایا بے حد زیر لب حقیقت مسکراتا شکریہ اچھا لگا دل ہے وہ ہے وہ کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے حقیقت ملا تو سب وسیم توڑنا اچھا لگا بے ارادہ لم سے کی حقیقت سنسی پیاری لگی کم برق آنکھ کا حقیقت دیکھنا اچھا لگا نیم شب کی خموشی ہے وہ ہے وہ بھیگتی سڑکوں پہ کل تیری یادوں کے جلؤ ہے وہ ہے وہ گھومنا اچھا لگا ا سے عدو جاں کو امجد ہے وہ ہے وہ برا کیسے ک ہوں جب بھی آیا سامنے حقیقت بےوفا اچھا لگا

Amjad Islam Amjad

4 likes

निकल के हल्क़ा-ए-शाम-ओ-सहरस जाएँ कहीं ज़मीं के साथ न मिल जाएँ ये ख़लाएँ कहीं सफ़र की रात है पिछली कहानियाँ न कहो रुतों के साथ पलटती हैं कब हवाएँ कहीं फ़ज़ा में तैरते रहते हैं नक़्श से क्या क्या मुझे तलाश न करती हों ये बलाएँ कहीं हवा है तेज़ चराग़-ए-वफ़ा का ज़िक्र तो क्या तनाबें ख़ेमा-ए-जाँ की न टूट जाएँ कहीं मैं ओस बन के गुल-ए-हर्फ़ पर चमकता हूँ निकलने वाला है सूरज मुझे छुपाएँ कहीं मिरे वजूद पे उतरी हैं लफ़्ज़ की सूरत भटक रही थीं ख़लाओं में ये सदाएँ कहीं हवा का लम्स है पाँव में बेड़ियों की तरह शफ़क़ की आँच से आँखें पिघल न जाएँ कहीं रुका हुआ है सितारों का कारवाँ 'अमजद' चराग़ अपने लहू से ही अब जलाएँ कहीं

Amjad Islam Amjad

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.