تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسانہ سب کا فسانا لگتا ہے کیفؔ بتا کیا تیری غزل میں جادو ہے بچہ بچہ تیرا دوانا لگتا ہے
Related Ghazal
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Kaif Bhopali
جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو
Kaif Bhopali
0 likes
خانقاہ ہے وہ ہے وہ صوفی منا چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا جستجو دل شکستہ تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے ہے وہ ہے وہ سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدہ نرگ سے آج ہر گل نرگ سے بچھاؤ کھائے بیٹھا ہے
Kaif Bhopali
0 likes
سلام بخیر ا سے پر ا گر ایسا کوئی فنکار ہوں جائے سیاہی خون بن جائے تلوار ہوں جائے زمانے سے کہو کچھ سائقہ رفتار ہوں جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو میرا دیدار ہوں جائے حقیقت زلفیں سانپ ہیں بے شک ا گر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک ا گر آزار ہوں جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگر لگ ہم نگاہیں ڈال دیں ج سے پر وہی سرکار ہوں جائے
Kaif Bhopali
1 likes
تن تنہا مقابل ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے ا نہیں ہے وہ ہے وہ چھین کر لایا ہوں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے غاروں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسو سے حقیقت یوں قتل کرتے ہیں نگا ہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے لگ آئی پر لگ آئی حقیقت ا نہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے حقیقت دن بھی ہاں یہ کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دسہرے سے دیوالی سے بسنوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے
Kaif Bhopali
1 likes
ا سے طرح محبت ہے وہ ہے وہ دل پہ حکمرانی ہے دل نہیں میرا گویا ان کی راجدهانی ہے گھا سے کے سیلاب ہوں سے سے خاک راہ کیا آندھیاں بھی پگلی ہیں برق بھی دیوانی ہے شاید ان کے دامن نے پونچھ دیں مری آنکھیں آج مری اشکوں کا رنگ زعفرانی ہے پوچھتے ہوں کیا بابا کیا ہوا دل زندہ حقیقت میرا دل زندہ آج آں جہانی ہے کیف تجھ کو دنیا نے کیا سے کیا بنا ڈالا یار اب تری منا پر رنگ ہے لگ پانی ہے
Kaif Bhopali
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaif Bhopali.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.







