تیری آنکھوں کی چمک ب سے اور اک پل ہے ابھی دیکھ لے ا سے چاند کو کچھ دور بادل ہے ابھی آنکھ تو خود کو نئے چہروں ہے وہ ہے وہ کھو کر رہ گئی دل م گر ا سے بے وجہ کے جانے سے بوجھل ہے ابھی اب تلک چہرے پہ ہیں طوفاں گزرنے کے نشان تہ ہے وہ ہے وہ پتھر جا چکا پانی پہ ہلچل ہے ابھی تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تری لگ تھے تو نے دیکھا ہی نہیں کچھ بھی تو پاگل ہے ابھی کر گیا تو سورج مجھے تنہا ک ہاں لا کر نسیم گلزار ناز کیا کروں ہے وہ ہے وہ راستے ہے وہ ہے وہ شب کا جنگل ہے ابھی
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
More from Iftikhar Naseem
لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو
Iftikhar Naseem
0 likes
ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو
Iftikhar Naseem
0 likes
سرائے چھوڑ کے حقیقت پھروں کبھی نہیں آیا چلا گیا تو جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک اجازت مری گھر ہے وہ ہے وہ اسی کے ذوق کی ہے جو مری گھر ہے وہ ہے وہ بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا تو پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکان ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی بھی جلوے نہیں رہتا شجر ہوں ج سے پہ کہ طائر کبھی نہیں آیا
Iftikhar Naseem
0 likes
خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
لگ جانے کب حقیقت پلٹ آئیں در کھلا رکھنا گئے ہوئے کے لیے دل ہے وہ ہے وہ کچھ جگہ رکھنا ہزار تلخ ہوں یادیں م گر حقیقت جب بھی ملے زبان پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا لگ ہوں کہ قرب ہی پھروں مرگ ربط بن جائے حقیقت اب ملے تو ذرا ا سے سے فاصلہ رکھنا اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف جو بے وجہ بھول گیا تو ا سے کو یاد کیا رکھنا ابھی لگ علم ہوں ا سے کو لہو کی لذت کا یہ راز ا سے سے بے حد دیر تک چھپا رکھنا کبھی لگ لانا مسائل گھروں کے دفترون ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیا ہے جسے چوم کر ہوا ہے وہ ہے وہ نسیم گلزار ناز اسے ہمیشہ حفاظت ہے وہ ہے وہ اے خدا رکھنا
Iftikhar Naseem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Naseem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.







