ghazalKuch Alfaaz

تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے مری لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر کو بلن گرا پہ چڑھ کے کیا دیکھوں عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے چراغ دیر و کعبہ دیکھی ہے سورج سے ہے وہ ہے وہ نے تاریکی لگ را سے آوےگی عشق دل یہ صبح زر نگار مجھے کہےگا دل تو ہے وہ ہے وہ پتھر کے پاؤں چوموں گا زما لگ لاکھ کرے آ کے سنگسار مجھے حقیقت فاقہ مست ہوں ج سے راہ سے گزرتا ہوں سلام بخیر کرتا ہے آشوب روزگار مجھے

Related Ghazal

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

عمر گزرےگی امتحاں ہے وہ ہے وہ کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان ہے وہ ہے وہ کیا مری ہر بات نبھے گی ہی رہی نقص ہے کچھ مری نقص ہے وہ ہے وہ کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکنا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محرو میاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان ہے وہ ہے وہ کیا خود کو جانا جدا زمانے سے آ گیا تو تھا مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا شام ہی سے دکان دید ہے بند نہیں نقصان تک دکان ہے وہ ہے وہ کیا اے مری صبح و شام دل کی شفق تو نہاتی ہے اب بھی بان ہے وہ ہے وہ کیا بولتے کیوں نہیں مری حق ہے وہ ہے وہ ہے وہ آبلے پڑ گئے زبان ہے وہ ہے وہ کیا خموشی کہ رہی ہے کان ہے وہ ہے وہ کیا آ رہا ہے مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا دل کہ آتے ہیں ج سے کو دھیان بے حد خود بھی آتا ہے اپنے دھیان ہے وہ ہے وہ کیا حقیقت ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے اب بھی ہوں ہے وہ ہے وہ تری امان ہے وہ ہے وہ کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان ہے وہ ہے وہ کیا ہے نسیم بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے ا سے مکان ہے وہ ہے وہ کیا

Jaun Elia

61 likes

آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

Jawwad Sheikh

50 likes

بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کوشش سے اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ لگا ہوں زیادہ بھی ا گر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا

Tehzeeb Hafi

174 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Khalilur Rahman Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Khalilur Rahman Azmi's ghazal.