ghazalKuch Alfaaz

تیرگی طاق ہے وہ ہے وہ جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آ سے کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے مری جیسی ہے مری پرچھائیں دھوپ ہے وہ ہے وہ پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نا رسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر پھینک دی ہے م گر کیل دیوار ہے وہ ہے وہ گڑی ہوئی ہے ہارتا بھی نہیں غم دوراں ضد پہ امید بھی اڑی ہوئی ہے دل کسی کے خیال ہے وہ ہے وہ ہے گم رات کو خواب کی پڑی ہوئی ہے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Ammar Iqbal

جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے

Ammar Iqbal

9 likes

یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں

Ammar Iqbal

1 likes

خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے اپنی ہستی سے عشق ہو گیا ہے جب سے دیکھا ہے اس کا فقیرنی کو فاقہ مستی سے عشق ہو گیا ہے ایک درویش کو تری خاطر ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے خود تراشا ہے جب سے بت اپنا بت پرستی سے عشق ہو گیا ہے یہ فلک زاد کی کہانی ہے اس کا کا کو پستی سے عشق ہو گیا ہے

Ammar Iqbal

6 likes

مجھ سے بنتا ہوا تو تجھ کو بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیت ہوتا ہوا تو گیت سناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں نقش دیتا ہوا تو چاک گھماتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں حرف حکایات کسی تصویر ہے وہ ہے وہ کوئی رستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بناتا ہوں کہی دور سے آتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک تصویر کی تکمیل کے ہم دو پہلو رنگ بھرتا ہوا تو رنگ بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو لے جائے کہی دور بہاتی ہوئی تو تجھ کو لے جاؤں کہی دور اڑاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عبارت ہے جو تحریر نہیں ہوں پائی مجھ کو لکھتا ہوا تو تجھ کو مٹاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سینے ہے وہ ہے وہ کہی خود کو چھپاتا ہوا تو تری سینے سے ترا درد چراتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانچ کا ہوں کے مری آگے بکھرتا ہوا تو کرچیوں کو تری پلکوں سے اٹھاتا ہوا ہے وہ ہے وہ

Ammar Iqbal

17 likes

مجھ سے نکل کے میرے کسی آئینے میں آ اے رب اے خوش جمال کبھی رابطے میں آ تجھ سے گزر کے اپنی خبر لینی ہے مجھے دیواریں جسم و جان میرے راستے میں آ یک بارگی جو پھروں گئی نظریں تو پھروں گئی اب چاہے خواب میں کہ کسی رتجگے میں آ سب توڑ تاڑ تجھ سے کڑی جوڑ لوں گا میں اک بار میرے پاس کسی سلسلے میں آ حل ہو گیا نا مجھ میں ہمیشہ کے واسطے کس نے کہا تھا تجھ سے کہ مجھ مسائل میں آ رکھیں تجھے ہتھیلی پر کب تک سنبھال کر چل اشک اے نامراد نکل آبلے میں آ پھروں دیکھتا ہوں کیسے نکلتے ہے تیرے بل عمار اس بدن سے نکل کر کھلے میں آ

Ammar Iqbal

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ammar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.