یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Ammar Iqbal
جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے
Ammar Iqbal
9 likes
پہلے ہماری آنکھ ہے وہ ہے وہ بینائی آئی تھی پھروں ا سے کے بعد قوت گویائی آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار مری تھکن سے مجھ ہے وہ ہے وہ توانائی آئی تھی دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا کل ج سے کے بعد کمرے ہے وہ ہے وہ تنہائی آئی تھی حقیقت ک سے کی نغمگی تھی جو داروں سروں ہے وہ ہے وہ تھی رنگوں ہے وہ ہے وہ ک سے کے رنگ سے را'نائی آئی تھی پھروں یوں ہوا کہ ا سے کو تمنا ئی کر لیا مری طرف جو چشم تماشائی آئی تھی
Ammar Iqbal
3 likes
مرتبہ تھا مقام تھا میرا روشنی پر قیام تھا میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی بھیجا گیا تو تھا پہلے بھی تب کوئی اور نام تھا میرا آخری سمے آنکھ کھل گئی تھی ورنا قصہ تمام تھا میرا
Ammar Iqbal
10 likes
تیرگی طاق ہے وہ ہے وہ جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آ سے کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے مری جیسی ہے مری پرچھائیں دھوپ ہے وہ ہے وہ پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نا رسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر پھینک دی ہے م گر کیل دیوار ہے وہ ہے وہ گڑی ہوئی ہے ہارتا بھی نہیں غم دوراں ضد پہ امید بھی اڑی ہوئی ہے دل کسی کے خیال ہے وہ ہے وہ ہے گم رات کو خواب کی پڑی ہوئی ہے
Ammar Iqbal
2 likes
خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے اپنی ہستی سے عشق ہو گیا ہے جب سے دیکھا ہے اس کا فقیرنی کو فاقہ مستی سے عشق ہو گیا ہے ایک درویش کو تری خاطر ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے خود تراشا ہے جب سے بت اپنا بت پرستی سے عشق ہو گیا ہے یہ فلک زاد کی کہانی ہے اس کا کا کو پستی سے عشق ہو گیا ہے
Ammar Iqbal
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.







