جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو
Mehshar Afridi
53 likes
برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں
Umair Najmi
59 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Ammar Iqbal
پہلے ہماری آنکھ ہے وہ ہے وہ بینائی آئی تھی پھروں ا سے کے بعد قوت گویائی آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار مری تھکن سے مجھ ہے وہ ہے وہ توانائی آئی تھی دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا کل ج سے کے بعد کمرے ہے وہ ہے وہ تنہائی آئی تھی حقیقت ک سے کی نغمگی تھی جو داروں سروں ہے وہ ہے وہ تھی رنگوں ہے وہ ہے وہ ک سے کے رنگ سے را'نائی آئی تھی پھروں یوں ہوا کہ ا سے کو تمنا ئی کر لیا مری طرف جو چشم تماشائی آئی تھی
Ammar Iqbal
3 likes
مرتبہ تھا مقام تھا میرا روشنی پر قیام تھا میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی بھیجا گیا تو تھا پہلے بھی تب کوئی اور نام تھا میرا آخری سمے آنکھ کھل گئی تھی ورنا قصہ تمام تھا میرا
Ammar Iqbal
10 likes
خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے اپنی ہستی سے عشق ہو گیا ہے جب سے دیکھا ہے اس کا فقیرنی کو فاقہ مستی سے عشق ہو گیا ہے ایک درویش کو تری خاطر ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے خود تراشا ہے جب سے بت اپنا بت پرستی سے عشق ہو گیا ہے یہ فلک زاد کی کہانی ہے اس کا کا کو پستی سے عشق ہو گیا ہے
Ammar Iqbal
6 likes
یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں
Ammar Iqbal
1 likes
رات سے جنگ کوئی کھیل نہیں جاناں چراغوں ہے وہ ہے وہ اتنا تیل نہیں آ گیا تو ہوں تو کھینچ اپنی طرف مری جانب مجھے دھکیل نہیں جب ہے وہ ہے وہ چاہوںگا چھوڑ جاؤں گا اک سرائے ہے جسم جیل نہیں بینچ دیکھی ہے خواب ہے وہ ہے وہ خالی اور پٹری پر ا سے پہ ریل نہیں ج سے کو دیکھا تھا کل درخت کے گرد حقیقت ہرا اژدہا تھا بیل نہیں
Ammar Iqbal
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.







