ghazalKuch Alfaaz

خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے اپنی ہستی سے عشق ہو گیا ہے جب سے دیکھا ہے اس کا فقیرنی کو فاقہ مستی سے عشق ہو گیا ہے ایک درویش کو تری خاطر ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے خود تراشا ہے جب سے بت اپنا بت پرستی سے عشق ہو گیا ہے یہ فلک زاد کی کہانی ہے اس کا کا کو پستی سے عشق ہو گیا ہے

Related Ghazal

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Ammar Iqbal

پہلے ہماری آنکھ ہے وہ ہے وہ بینائی آئی تھی پھروں ا سے کے بعد قوت گویائی آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار مری تھکن سے مجھ ہے وہ ہے وہ توانائی آئی تھی دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا کل ج سے کے بعد کمرے ہے وہ ہے وہ تنہائی آئی تھی حقیقت ک سے کی نغمگی تھی جو داروں سروں ہے وہ ہے وہ تھی رنگوں ہے وہ ہے وہ ک سے کے رنگ سے را'نائی آئی تھی پھروں یوں ہوا کہ ا سے کو تمنا ئی کر لیا مری طرف جو چشم تماشائی آئی تھی

Ammar Iqbal

3 likes

جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے

Ammar Iqbal

9 likes

یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں

Ammar Iqbal

1 likes

تیرگی طاق ہے وہ ہے وہ جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آ سے کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے مری جیسی ہے مری پرچھائیں دھوپ ہے وہ ہے وہ پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نا رسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر پھینک دی ہے م گر کیل دیوار ہے وہ ہے وہ گڑی ہوئی ہے ہارتا بھی نہیں غم دوراں ضد پہ امید بھی اڑی ہوئی ہے دل کسی کے خیال ہے وہ ہے وہ ہے گم رات کو خواب کی پڑی ہوئی ہے

Ammar Iqbal

2 likes

خود پرستی سے عشق ہو گیا ہے اپنی ہستی سے عشق ہو گیا ہے جب سے دیکھا ہے اس کا فقیرنی کو فاقہ مستی سے عشق ہو گیا ہے ایک درویش کو تری خاطر ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے خود تراشا ہے جب سے بت اپنا بت پرستی سے عشق ہو گیا ہے یہ فلک زاد کی کہانی ہے اس کا کا کو پستی سے عشق ہو گیا ہے

Ammar Iqbal

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ammar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.