رات سے جنگ کوئی کھیل نہیں جاناں چراغوں ہے وہ ہے وہ اتنا تیل نہیں آ گیا تو ہوں تو کھینچ اپنی طرف مری جانب مجھے دھکیل نہیں جب ہے وہ ہے وہ چاہوںگا چھوڑ جاؤں گا اک سرائے ہے جسم جیل نہیں بینچ دیکھی ہے خواب ہے وہ ہے وہ خالی اور پٹری پر ا سے پہ ریل نہیں ج سے کو دیکھا تھا کل درخت کے گرد حقیقت ہرا اژدہا تھا بیل نہیں
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
More from Ammar Iqbal
یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں
Ammar Iqbal
1 likes
تیرگی طاق ہے وہ ہے وہ جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آ سے کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے مری جیسی ہے مری پرچھائیں دھوپ ہے وہ ہے وہ پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نا رسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر پھینک دی ہے م گر کیل دیوار ہے وہ ہے وہ گڑی ہوئی ہے ہارتا بھی نہیں غم دوراں ضد پہ امید بھی اڑی ہوئی ہے دل کسی کے خیال ہے وہ ہے وہ ہے گم رات کو خواب کی پڑی ہوئی ہے
Ammar Iqbal
2 likes
جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے
Ammar Iqbal
9 likes
پہلے ہماری آنکھ ہے وہ ہے وہ بینائی آئی تھی پھروں ا سے کے بعد قوت گویائی آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار مری تھکن سے مجھ ہے وہ ہے وہ توانائی آئی تھی دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا کل ج سے کے بعد کمرے ہے وہ ہے وہ تنہائی آئی تھی حقیقت ک سے کی نغمگی تھی جو داروں سروں ہے وہ ہے وہ تھی رنگوں ہے وہ ہے وہ ک سے کے رنگ سے را'نائی آئی تھی پھروں یوں ہوا کہ ا سے کو تمنا ئی کر لیا مری طرف جو چشم تماشائی آئی تھی
Ammar Iqbal
3 likes
مرتبہ تھا مقام تھا میرا روشنی پر قیام تھا میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی بھیجا گیا تو تھا پہلے بھی تب کوئی اور نام تھا میرا آخری سمے آنکھ کھل گئی تھی ورنا قصہ تمام تھا میرا
Ammar Iqbal
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.







