مرتبہ تھا مقام تھا میرا روشنی پر قیام تھا میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی بھیجا گیا تو تھا پہلے بھی تب کوئی اور نام تھا میرا آخری سمے آنکھ کھل گئی تھی ورنا قصہ تمام تھا میرا
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
73 likes
More from Ammar Iqbal
جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا تو روشنی بناتے ہوئے کیا خوشگوار کسی پہ گزرےگی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے سمے کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں مری آوارگی بناتے ہوئے ا سے نے ناسور کر لیا ہوگا زخم کو شاعری بناتے ہوئے
Ammar Iqbal
9 likes
یوںہی بے بال و پر کھڑے ہوئے ہیں ہم قف سے توڑ کر کھڑے ہوئے ہیں دشت گزرا ہے مری کمرے سے اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں اور کتنی گھماؤگے دنیا ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں برگزیدہ بزرگ نیم کے پیڑ تھک گئے ہیں م گر کھڑے ہوئے ہیں مدتوں سے ہزارہا عالم ایک امید پر کھڑے ہوئے ہیں
Ammar Iqbal
1 likes
تیرگی طاق ہے وہ ہے وہ جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آ سے کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے مری جیسی ہے مری پرچھائیں دھوپ ہے وہ ہے وہ پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نا رسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر پھینک دی ہے م گر کیل دیوار ہے وہ ہے وہ گڑی ہوئی ہے ہارتا بھی نہیں غم دوراں ضد پہ امید بھی اڑی ہوئی ہے دل کسی کے خیال ہے وہ ہے وہ ہے گم رات کو خواب کی پڑی ہوئی ہے
Ammar Iqbal
2 likes
پہلے ہماری آنکھ ہے وہ ہے وہ بینائی آئی تھی پھروں ا سے کے بعد قوت گویائی آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار مری تھکن سے مجھ ہے وہ ہے وہ توانائی آئی تھی دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا کل ج سے کے بعد کمرے ہے وہ ہے وہ تنہائی آئی تھی حقیقت ک سے کی نغمگی تھی جو داروں سروں ہے وہ ہے وہ تھی رنگوں ہے وہ ہے وہ ک سے کے رنگ سے را'نائی آئی تھی پھروں یوں ہوا کہ ا سے کو تمنا ئی کر لیا مری طرف جو چشم تماشائی آئی تھی
Ammar Iqbal
3 likes
مجھ سے بنتا ہوا تو تجھ کو بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیت ہوتا ہوا تو گیت سناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں نقش دیتا ہوا تو چاک گھماتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں حرف حکایات کسی تصویر ہے وہ ہے وہ کوئی رستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بناتا ہوں کہی دور سے آتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک تصویر کی تکمیل کے ہم دو پہلو رنگ بھرتا ہوا تو رنگ بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو لے جائے کہی دور بہاتی ہوئی تو تجھ کو لے جاؤں کہی دور اڑاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عبارت ہے جو تحریر نہیں ہوں پائی مجھ کو لکھتا ہوا تو تجھ کو مٹاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سینے ہے وہ ہے وہ کہی خود کو چھپاتا ہوا تو تری سینے سے ترا درد چراتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانچ کا ہوں کے مری آگے بکھرتا ہوا تو کرچیوں کو تری پلکوں سے اٹھاتا ہوا ہے وہ ہے وہ
Ammar Iqbal
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's ghazal.







