ghazalKuch Alfaaz

تو بھی چپ ہے ہے وہ ہے وہ بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے تری ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے شاید حقیقت دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا مجھ کو دیکھتے ہی جب ا سے کی انگڑائی شرمائی ہے ا سے دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احسا سے جب ا سے کے ملبو سے کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے ہم کو اور تو کچھ نہیں سوچھا البتہ ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوز رقابت پیدا کر کے ا سے کی نیند اڑائی ہے ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی ہے وہ ہے وہ بھٹکیں گے پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے عشق پیچ ان کی صندل پر جانے ک سے دن بیل چڑھے کیاری ہے وہ ہے وہ پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہر جائی ہے آج بے حد دن بعد ہے وہ ہے وہ اپنے کمرے تک آ نکلا تھا جوں ہی دروازہ کھولا ہے ا سے کی خوشبو آئی ہے ایک تو اتنا حب سے ہے پھروں ہے وہ ہے وہ سانسیں روکے بیٹھا ہوں ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر ہے وہ ہے وہ دھول اڑائی ہے

Jaun Elia22 Likes

Related Ghazal

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Jaun Elia

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے

Jaun Elia

14 likes

کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں

Jaun Elia

19 likes

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں کہ ان کے خط ا نہیں لوٹا رہے ہیں نہیں سمجھاتے پر حقیقت رازی خوشگوار ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں یقین کا راستہ طے کرنے والے بے حد تیزی سے واپ سے آ رہے ہیں یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کو چیزیں کے لیے ملوا رہے ہیں ت غضب ہے کہ عشق و کرنے والے سے ابھی کچھ لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں تمہیں چاہیں گے جب چھن جاوگی جاناں ابھی ہم جاناں کو ارزاں پا رہے ہیں کسی صورت ا نہیں خوبصورت ہوں ہم سے ہم اپنے عیب خود گنوا رہے ہیں حقیقت پاگل مست ہے اپنی وفا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو آ رہے ہیں دلیلوں سے اسے قائل کیا تھا دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں تری بان ہوں سے ہجرت کرنے والے نئے ماحول ہے وہ ہے وہ نزدیک تر رہے ہیں یہ جذب عشق ہے یا جذبہ رحم تری آنسو مجھے رلوہ رہے ہیں غضب کچھ ربط ہے جاناں سے کہ جاناں کو ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں وفا کی یادگاریں تک لگ ہوںگی مری جاں ب سے کوئی دن جا رہے ہیں

Jaun Elia

27 likes

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے زخم ہی کو بھول گیا تو وجہ وابستگی ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا تو صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے شام ہی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب گزاری کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہا رنگ کو بھول گیا تو کیوں لگ ہوں ناز ا سے ذہانت پر ایک ہے وہ ہے وہ ہر کسی کو بھول گیا تو سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا تو سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا تو قہقہہ مارتے ہی دیوا لگ ہر غم زندگی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب ج سے کو چاہا تھا اندھیرا اسی کو بھول گیا تو کیا خوشگوار ہوئی ا گر اک بے وجہ اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا تو سوچ کر ا سے کی خلوت انجمنی واں ہے وہ ہے وہ اپنی کمی کو بھول گیا تو سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا تو ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرستی کو بھول گیا تو بستیوں اب تو راستہ دے دو اب تو ہے وہ ہے وہ ا سے گلی کو بھول گیا تو

Jaun Elia

34 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaun Elia.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.