جاناں اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے جاناں سے تو کم گلہ ہے زیادہ نصیب سے گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے برباد دل کا آخری سرمایہ تھی امید حقیقت بھی تو جاناں نے چھین لیا مجھ غریب سے دھندلا چلی نگاہ دم واپسی ہے اب آ پا سے آ کے دیکھ لوں تجھ کو قریب سے
Related Ghazal
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے
Azhar Iqbal
61 likes
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم اندھیرا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہوں رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کروں جاناں تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں ہے وہ ہے وہ ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھروں دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی ی ہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
Jaun Elia
67 likes
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں
Varun Anand
63 likes
More from Agha Hashr Kashmiri
یاد ہے وہ ہے وہ تیری ج ہاں کو بھولتا جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا ی ہاں اب تو سینے ہے وہ ہے وہ فقط اک ٹی سے سی پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ و وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہاں یہ ہاں یہ جب بہار آئی گلستاں ہے وہ ہے وہ تو مرجھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حشر مری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق اپنا غم دل کی زبان ہے وہ ہے وہ دل کو سمجھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Agha Hashr Kashmiri
0 likes
غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا تو مری جانب سے تری دل ہے وہ ہے وہ غمدیدہ آ ہی گیا تو جانتا تھا کھا رہا ہے بےوفا جھوٹی قسم سادگی دیکھو کہ پھروں بھی اعتبار آ ہی گیا تو پوچھنے والوں سے تو ہے وہ ہے وہ نے چھپایا دل کا راز پھروں بھی تیرا نام لب پہ ایک بار آ ہی گیا تو تو لگ آیا و وفا دشمن تو کیا ہم مر گئے چند دن تڑپا کیے آخر قرار آ ہی گیا تو جی ہے وہ ہے وہ تھا اے حشر ا سے سے اب لگ بولیں گے کبھی بےوفا جب سامنے آیا تو پیار آ ہی گیا تو
Agha Hashr Kashmiri
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Agha Hashr Kashmiri.
Similar Moods
More moods that pair well with Agha Hashr Kashmiri's ghazal.







